گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 22

۲۲ روحانی خزائن جلد۱۷ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد کہ انہوں نے ایک غلط مسئلہ جہاد کی پیروی کر کے سرحدی اقوام کو یہ سبق دیا کہ تا وہ ایک محسن گورنمنٹ کے معزز افسروں کے خون سے اپنی تلواروں کو سرخ کیا کریں اور اس طرح ناحق اپنی محسن گورنمنٹ کو ایذا پہنچایا کریں مگر ساتھ ہی یورپ کے ملاؤں پر بھی جو پادری ہیں ہمیں افسوس ہے کہ انہوں نے ناحق تیز اور خلاف واقعہ تحریروں سے نادانوں کو جوش دلائے ہزاروں دفعہ جہاد کا اعتراض پیش کر کے وحشی مسلمانوں کے دلوں میں یہ جمادیا کہ ان کے مذہب میں جہاد ایک ایسا طریق ہے جس سے جلد بہشت مل جاتا ہے اگر ان پادری صاحبوں کے دلوں میں کوئی بد نیتی نہیں تھی تو چاہیے تھا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع کے جہادوں کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد سے مقابلہ کر کے اندر ہی اندر سمجھے جاتے اور پچپ رہتے ۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ اس فتنہ عوام کے جوش دلانے کے بڑے محرک اسلامی مولوی ہیں تا ہم ہمارا انصاف ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اقرار کریں کہ کسی قدر اس فتنہ انگیزی میں پادریوں کی وہ تحریر میں بھی حصہ دار ہیں جن سے آئے دن مسلمان شاکی نظر آتے ہیں۔ افسوس کہ بعض جاہل ایک حرکت کر کے الگ ہو جاتے ہیں اور گورنمنٹ انگلشیہ کو مشکلات پیش آتی ہیں ان مشکلات کے رفع کرنے کے لئے میرے نزدیک احسن تجویز وہی ہے جو حال میں رومی گورنمنٹ نے اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ امتحانا چند سال کے لئے ہر ایک فرقہ کو قطعا روک دیا جائے کہ وہ اپنی تحریروں میں اور نیز زبانی تقریروں میں ہرگز ہر گز کسی دوسرے مذہب کا صراحةً یا اشارة ذکر نہ کرے ہاں اختیار ہے کہ جس قدر چاہے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اس صورت میں نئے نئے کینوں کی تخم ریزی موقوف ہو جائے گی اور پرانے قصے بھول جائیں گے اور لوگ باہمی محبت اور مصالحت کی طرف رجوع کریں گے اور جب سرحد کے وحشی لوگ دیکھیں گے کہ قوموں میں اس قدر با ہم انس اور محبت پیدا ہو گیا ہے تو آخر وہ بھی متاثر ہو کر عیسائیوں کی ایسی ہی ہمدردی کریں گے جیسا کہ ایک مسلمان اپنے بھائی کی کرتا ہے اور دوسری تدبیر یہ ہے کہ اگر پنجاب اور ہندوستان کے مولوی در حقیقت مسئلہ جہاد کے مخالف ہیں تو وہ اس بارے میں رسالے تالیف کر کے اور پشتو میں ان کا ترجمہ کرا کر سرحدی اقوام میں مشتہر کریں بلا شبہ اُن کا بڑا اثر ہوگا۔ مگر ان تمام باتوں کے لئے شرط ہے کہ بچے دل اور جوش سے کارروائی کی جائے نہ نفاق سے۔ والسلام على من اتبع الهدى۔ المشتهر خاکسار مرزاغلام احمد مسیح موعود عفی اللہ عنہ از قادیاں المرقوم ۲۲ مئی ۱۹۰۰ء