فتح اسلام — Page 51
روحانی خزائن جلد۳ ۵۱ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا مسلمانوں اور عیسائیوں کا کسی قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ حضرت مسیح بن مریم اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گے“ میں اس خیال کا غلط ہونا اپنے اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں اور نیز یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ اس نزول سے مراد در حقیقت مسیح بن مریم کا نزول نہیں بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے جس کا مصداق حسب اعلام و الہام الہی یہی عاجز ہے اور مجھے یقیناً معلوم ہے کہ میری اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بینات الہام سے قائم کیا گیا ہوں بہت سی قلمیں مخالفانہ طور پر اٹھیں گی اور ایک تعجب اور ا نکار سے بھرا ہوا شور عوام میں پیدا ہوگا اور میرا ارادہ تھا کہ بالفعل میں کلام کو طول دینے سے مجتنب رہوں اور (۲) اعتراضات کے پیش ہونے کے وقت ان کے دفع رفع کے لیے مفصل وجوہات و دلائل جیسے معترضین کے خیالات کے حالات موجود ہوں پیش کروں لیکن اب مجھے اس ارادہ میں یہ نقص معلوم ہوتا ہے کہ میری کوتاہ قلمی کی حالت میں نہ صرف عوام الناس بلکہ مسلمانوں کے خواص بھی جوان کے بعض مولوی ہیں باعث اپنے قصور فہم کے جو ان کی حالت متنزلہ کو لازم پڑا ہوا ہے اور نیز بوجہ متاثر ہونے کے ایک پورانے خیال سے خواہ نخواہ میری بات کو رد کرنے کے لیے مدعیانہ کھڑے ہوں گے اور اپنے دعوی کے طرف دار بن کر بہر حال اُسی دعوی کی سچائی ثابت ہو جانا