فتح اسلام — Page 17
روحانی خزائن جلد۳ فتح اسلام ضرورتوں کے لحاظ سے اور اُن کے امراض لاحقہ کے خیال سے ہمیشہ باب تقریر کھلا رہتا ہے کیونکہ بُرائی کو نشانہ کے طور پر دیکھ کر اس کے روکنے کے لئے نصائح ضروریہ کی تیراندازی کرنا اور بگڑتے ہوئے اخلاق کو ایسے عضو کی طرح پا کر جو (۴۲۸ اپنے محل سے ٹل گیا ہوا اپنی حقیقی صورت اور محل پر لانا جیسے یہ علاج بیمار کے روبرو ہونے کی حالت میں متصور ہے اور کسی حالت میں کماحقہ ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے چندیں ہزار نبی اور رسول بھیجے اور ان کی شرف صحبت میں مشرف ہونے کا حکم دیا تا ہر ایک زمانہ کے لوگ چشم دید نمونوں کو پا کر اور ان کے وجود کو (۲۹) اس جگہ یہ عجیب قصہ لکھنے کے لائق ہے کہ ایک دفعہ مجھے علیگڑھ میں جانے کا اتفاق ہوا اور مرض (۲۷) ضعف دماغ کی وجہ سے جس کا قادیان میں بھی کچھ مدت پہلے دورہ ہو چکا تھا میں اس لائق نہیں تھا کہ زیادہ گفتگو یا اور کوئی دماغی محنت کا کام کر سکتا اور ابھی میری یہی حالت ہے کہ میں زیادہ بات کرنی یا حد سے زیادہ فکر اور خوض کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں علیگڑھ کے ایک مولوی صاحب محمد اسمعیل نام مجھے سے ملے اور انہوں نے نہایت انکساری سے وعظ کے لئے درخواست کی اور کہا کہ لوگ مدت سے آپکے شائق ہیں۔ بہتر ہے کہ سب لوگ ایک مکان میں جمع ہوں اور آپ کچھ وعظ فرماویں۔ چونکہ مجھے ہمیشہ سے یہی عشق اور یہی دلی خواہش ہے کہ حق باتوں کو لوگوں پر ظاہر کروں اس لئے میں نے اس درخواست کو بشوق دل قبول کیا اور چاہا کہ لوگوں کے عام مجمع میں اسلام کی حقیقت بیان کروں کہ اسلام کیا چیز ہے اور اب لوگ اُس کو کیا سمجھ رہے ہیں ۲۸ ھے اور مولوی صاحب کو کہا بھی گیا کہ انشاء اللہ اسلام کی حقیقت بیان کی جائے گی لیکن بعد اس کے میں خدا تعالی کی طرف سے روکا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ چونکہ میری صحت کی حالت اچھی نہیں تھی اس لئے خدا تعالی نے نہ چاہا کہ زیادہ مغز خواری کر کے کسی جسمانی بلا میں پڑوں اس لئے اُس نے وعظ کرنے سے مجھے روک دیا۔ ایک دفعہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی اتفاق ہوا تھا کہ میری ضعف کی حالت میں ایک نبی گزشتہ نبیوں میں سے کشفی طور پر مجھے کو ملے اور مجھے بطور ہمدردی اور نصیحت