دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 822

دافع البَلاء — Page 241

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۳۷ دافع البلاء فرما دیا کہ میں قادیاں کو اس تباہی سے محفوظ رکھوں گا خصوصا ایسی تباہی سے کہ لوگ کتوں کی طرح طاعون کی وجہ سے مریں یہاں تک کہ بھاگنے اور منتشر ہونے کی نوبت آوے۔ اسی طرح مولوی احمد حسن صاحب کو چاہئے کہ اپنے خدا سے جس طرح ہو سکے امروہہ کی نسبت دعا قبول کرالیں کہ وہ طاعون سے پاک رہے گا اور اب تک یہ دعا قریب قیاس بھی ہے کیونکہ ابھی تک امروہہ طاعون سے دوسوکوس کے فاصلہ پر ہے لیکن قادیاں سے طاعون چاروں طرف سے بفا صلہ دوکوس آگ لگا رہی ہے یہ ایک ایسا صاف صاف مقابلہ ہے کہ اس میں لوگوں کی بھلائی بھی ہے اور نیز صدق اور کذب کی شناخت بھی۔ کیونکہ اگر مولوی احمد حسن صاحب لعنت بازی کا مقابلہ کر کے دنیا سے گزر گئے تو اس سے امروہہ کو کیا فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر انہوں نے اپنے فرضی مسیح کی خاطر دعا قبول کرا کر خدا سے یہ بات منوالی کہ امروہہ میں طاعون نہیں پڑے گی تو اس صورت میں نہ صرف ان کو فتح ہوگی بلکہ تمام امروہہ پر ان کا ایسا احسان ہوگا کہ لوگ اس کا شکر نہیں کر سکیں گے۔ اور مناسب ہے کہ ایسے مباہلہ کا مضمون اس اشتہار کے شائع ہونے سے پندرہ دن تک بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے دنیا میں شائع کر دیں جس کا یہ مضمون ہو کہ میں یہ اشتہار مرزا غلام احمد کے مقابل پر شائع کرتا ہوں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں جو مومن ہوں دعا کی قبولیت پر بھروسہ کر کے یا الہام پا کر یا خواب دیکھ کر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ امروہہ ضرور بالضرور طاعون کی دست برد سے محفوظ رہے گا لیکن قادیاں میں تباہی پڑے گی کیونکہ مفتری کے رہنے کی جگہ ہے۔ اس اشتہار سے غالباً آئندہ جاڑے تک فیصلہ ہو جائے گا یا حد دوسرے تیسرے جاڑے تک اور گواب مئی کے مہینہ سے سنت اللہ کے موافق ملک میں طاعون کم ہوتی جائے گی اور خدائی روزہ کے دن آتے جائیں گے مگر امید ہے کہ پھر ابتدا نومبر ۱۹۰۲ء سے خدا تعالیٰ اپنا روزہ کھولے گا۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ اس افطار کے وقت کون کون ملک الموت کے قبضہ میں آیا چونکہ مسیح موعود کی رہائش کے قریب تر پنجاب ہے اور مسیح موعود کی نظر کا پہلا محل