دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 822

دافع البَلاء — Page 216

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۱۲ ایک غلطی کا ازالہ میرے مخالف حضرت عیسی ابن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہوگا جو مجھ پر کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ خاتم النبیین کی مہر ختمیت ٹوٹ جائے گی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو در حقیقت خاتم النبیین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ (۵) اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ کل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلمی طور پر محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہر حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہانہ اور کوئی یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحد ہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ بھلا اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو یوں سمجھ لو کہ تمہاری حدیثوں میں لکھا ہے کہ مہدی موعود خلق اور خلق میں ہمرنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور اس کا اسم آنجناب کے اسم سے مطابق ہوگا یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہو گا اور اس کے اہل بیت میں سے ہوگا اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہوگا۔ یہ عمیق اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ روحانیت کے رو سے اسی نبی میں سے نکلا ہوا ہوگا اور اس کی روح کا روپ ہوگا اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق بیان کیا یہاں تک کہ دونوں کے نام ایک کر دئیے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کا یشوعا بروز تھا اور بروز یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھی اس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سلمان منا اهل البيت على مشرب الحسن - میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سلم ۔ اور مسلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوں گی۔ ایک اندرونی کہ جو اندرونی بغض اور ھٹا کو دور کرے گی دوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے وجوہ کو پامال کر کے اور اسلام کی عظمت الجمعة : ۴