چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 370

روحانی خزائن جلد ۲۰ ٣٦٦ چشمه مسیحی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ پس انسانوں میں سے اسی انسان کو یہ جاودانی زندگی ملتی ہے جو غیروں کی محبت سے اپنا تعلق تو ڑ کر اور اپنی محبت ذاتی کے ساتھ خدا تعالیٰ میں فنا ہو کر خلی طور پر اس سے حیات جاودانی کا حصہ لیتا ہے اور ایسے شخص کو مردہ کہنا نا روا ہے کیونکہ وہ خدا میں ہو کر زندہ ہو گیا ہے۔ مرد ے وہ لوگ ہیں جو خدا سے دور رہ کر مر گئے ۔ پس سخت کا فراور بے دین اور مشرک وہ لوگ ہیں جو بغیر پانے محبت ذاتی اور وصال الہی کے تمام ارواح کی نسبت انادی اور قدیم زندگی کے قائل ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ کسی چیز کی بجز خدا کے کوئی ہستی نہیں۔ محض خدا ہے جس کا نام ہست ہے۔ پھر اس کے زیر سایہ ہو کر اور اس کی محبت میں محو ہو کر واصلوں کی روحیں حقیقی زندگی پاتی ہیں۔ اور اس کے وصال کے بغیر زندگی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں کافروں کا نام مرد ے رکھتا ہے اور دوزخیوں کی نسبت فرماتا ہے۔ إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ ۖ لَا يَمُوْتُ فِيهَا وَلَا یخیی لے یعنی جو شخص مجرم ہونے کی حالت میں اپنے رب کو ملے گا۔ اُس کے لئے جہنم ہے نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا یعنی اس لئے نہیں مرے گا کہ در اصل وہ تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ لہذا اس کا وجود ضروری ہے اور اس کو زندہ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ حقیقی زندگی وصال الہی سے حاصل ہوتی ہے اور حقیقی زندگی عین نجات ہے اور وہ بجر عشق الہی اور وصال حضرت عزت کے حاصل نہیں ہو سکتی اگر غیر قوموں کو حقیقی زندگی کی فلاسفی معلوم ہوتی تو وہ کبھی دعوئی نہ کرتے کہ تمام ارواح خود بخو د قدیم سے اپنا وجود رکھتی ہیں اور حقیقی زندگی سے (۴۳) بہرہ ور ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ علوم آسمانی ہیں اور آسمان سے ہی نازل ہوتے ہیں اور آسمانی لوگ ہی ان کی حقیقت کو جانتے ہیں اور دنیا اُن سے بے خبر ہے۔ اب ہم پھر اصل مضمون کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ چشمہ نجات ابدی کا وصالِ الہی ہے اور وہی نجات پاتا ہے کہ جو اس چشمہ سے زندگی کا پانی پیتا ہے۔ اور وہ وصال طه: ۷۵