چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 342

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۳۸ بالشهر الحال نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَنَبِيِّهِ الْعَظِيم السلام علیکم ! بعد هذا واضح ہو کہ میں نے آپ کا خط بڑے افسوس سے پڑھا جس کو آپ نے ایک عیسائی کی کتاب بنا بیچ الاسلام نام کی پڑھنے کے بعد لکھا ۔ مجھے تعجب ہے کہ وہ قوم جن کا خدا مردہ ۔ جن کا مذہب مردہ ۔ جن کی کتاب مردہ اور جو روحانی آنکھ کے نہ ہونے سے خود مردے ہیں ۔ اُن کی دروغ اور پر افترا باتوں سے اسلام کی نسبت آپ تر و د میں پڑ گئے ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ آپ کو یا در ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف خدا کی کتابوں کی تحریف نہیں کی بلکہ اپنے مذہب کو ترقی دینے کے لئے افترا اور مفتر یا نہ تحریروں میں ہر ایک قوم سے سبقت لے گئے ۔ چونکہ ان لوگوں کے پاس وہ نور نہیں جو سچائی کی تائید میں آسمان سے اترتا اور بچے مذہب کو اپنی متواتر شہادتوں سے دنیا میں ایک صریح امتیاز بخشتا ہے ۔ اس لئے یہ لوگ ان باتوں کے لئے مجبور ہوئے کہ لوگوں کو ایک زندہ مذہب یعنی اسلام سے بیزار کرنے کے لئے طرح طرح کے افتراؤں اور مکروں اور فریبوں اور دھوکا دہی اور محض جعلی اور بناوٹی باتوں سے کام لیا جاوے۔ اے عزیز ! یہ لوگ سیاہ دل لوگ ہیں جن کو خدا کا خوف نہیں اور جن کے منصوبے دن رات اسی کوشش میں ہیں کہ کسی طرح لوگ تاریکی سے پیار کریں اور روشنی کو چھوڑ دیں ۔ میں سخت تعجب میں ہوں کہ آپ ایسے شخص کی تحریروں سے کیوں متاثر ہوئے ۔ یہ لوگ ان ساحروں سے بڑھ کر ہیں جنہوں نے موسی نبی کے