چشمۂ مسیحی — Page 331
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۲۷ رساله الوصیت یا دنیا پرستی یا قصور اطاعت کا اس کے اندر نہ ہو تو وہ بھی میری اجازت سے یا میرے بعد انجمن کی اتفاق رائے سے اس مقبرہ میں دفن ہو سکتا ہے۔ (۱۹) اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی خاص وحی سے رڈ کیا جائے تو گو وصیتی مال بھی پیش کرے تا ہم اس قبرستان میں داخل نہیں ہو گا۔ (۲۰) میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ہو اُن کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔ یہ وہ شرائط ضرور یہ ہیں جو او پر لکھی گئیں ۔ آئندہ اس مقبرہ بہشتی میں وہ دفن کیا جائے گا جوان شرائط کو پورا کرے گا ۔ ممکن ہے کہ بعض آدمی جن پر بدگمانی کا مادہ غالب ہو وہ ہمیں اس کارروائی میں اعتراضوں کا نشانہ بنا دیں اور اس انتظام کو اغراض نفسانیہ پر مبنی سمجھیں یا اس کو بدعت قرار دیں لیکن یادر ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ بلاشبہ اس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق اور مومن میں تمیز کرے اور ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جو لوگ اس الہی انتظام پر اطلاع پا کر بلا توقف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ دسواں حصہ کل جائداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اپنا جوش دکھلاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ الم - أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا اَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ۔ کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں اسی قدر پر راضی ہو جاؤں ﴿۳۹﴾ کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور ابھی ان کا امتحان نہ کیا جائے اور یہ امتحان تو کچھ بھی چیز نہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا امتحان جانوں کے مطالبہ پر کیا گیا اور انہوں نے اپنے سرخدا کی راہ میں دیئے پر ایسا گمان کہ کیوں یوں ہی عام اجازت ہر ایک کو نہ دی جائے کہ وہ اس قبرستان میں دفن کیا جائے ۔ کس قدر دور از حقیقت ہے ۔ اگر یہی روا ہو تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں امتحان کی کیوں بنا ڈالی؟ وہ ہر ایک زمانہ میں چاہتا رہا ہے کہ خبیث اور طیب العنكبوت : ٣،٢