چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 441

روحانی خزائن جلد ۲۳ پیغام صلح دیکھ کر پھر بھی اُن کی کچھ پروا نہیں کی جیسا کہ انجیل میں بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں صرف اسرائیل کی بھیٹروں کے لئے آیا ہوں۔ اس جگہ ہم ایک فرض محال کے طور پر کہتے ہیں کہ خدائی کا دعوی کر کے پھر ایسا تنگ خیالی کا کلمہ بڑے تعجب کی بات ہے۔ کیا صحیح صرف اسرائیلیوں کا خدا تھا اور دوسری قوموں کا خدا نہ تھا جو ایسا کلمہ اُس کے منہ سے نکلا کہ مجھے دوسری قوموں کی اصلاح اور ہدایت سے کچھ غرض نہیں۔ غرض یہودیوں اور عیسائیوں کا یہی مذہب ہے کہ تمام نبی اور رسول انہیں کے خاندان سے آتے رہے ہیں اور انہیں کے خاندان میں خدا کی کتابیں اترتی رہی ہیں اور پھر بموجب عقیدہ عیسائیوں کے وہ سلسلہ الہام اور وحی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہو گیا اور خدا کے الہام پر مہر لگ گئی۔ انہیں خیالات کے پابند آریہ صاحبان بھی پائے جاتے ہیں یعنی جیسے یہود اور عیسائی نبوت اور الہام کو اسرائیلی خاندان تک ہی محدود رکھتے ہیں اور دوسری تمام قوموں کو الہام پانے کے فخر سے جواب دے رہے ہیں۔ یہی عقیدہ نوع انسان کی بد قسمتی سے آریہ صاحبان نے بھی ہے اختیار کر رکھا ہے یعنی وہ بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا کی وحی اور الہام کا سلسلہ آریہ ورت کی چار دیواری سے کبھی باہر نہیں گیا۔ ہمیشہ اسی ملک سے چار رشی منتخب کئے جاتے ہیں اور ہمیشہ وید ہی بار بار نازل ہوتا ہے اور ہمیشہ ویدک سنسکرت ہی اس الہام کے لئے خاص کی گئی ہے۔ غرض یہ دونوں قو میں خدا کو رب العالمین نہیں سمجھتیں ورنہ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ جس حالت میں خدا رب العالمین کہلاتا ہے نہ صرف رب اسرائیلیاں یا صرف رب آریاں تو وہ ایک خاص قوم سے کیوں ایسا دائمی تعلق پیدا کرتا ہے جس میں صریح طور پر طرف داری اور پیش پات پائی جاتی ہے۔ پس ان عقائد کے رد کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو اسی آیت سے شروع کیا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اور جابجا الفاتحة :٢