چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 370

روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمہ معرفت ۔ خاتمہ کتاب میں پڑھا گیا تھا اس رسالہ کے آخر میں لگا دیا ہے۔ ہمیں آریہ صاحبوں پر یہ افسوس نہیں کہ انہوں نے اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں اعتراض کئے کیونکہ منکر کو تہذیب اور شرافت کے ساتھ اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے بلکہ ہمارا تمام افسوس اس بات پر ہے کہ انہوں نے شرافت اور تہذیب سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے مضمون میں نہایت درندگی اور ناپاکی سے کام لیا۔ اور اپنے مضمون کو ایک گالیوں کا مجموعہ بنادیا اور کھلے کھلے طور پر ارادہ کیا کہ اُن معزز مسلمانوں کا دل دکھایا جائے جن کو آپ ہی دھوکہ دے کر بلایا اور آپ ہی شرط لگا دی تھی کہ مہذبانہ طور پر مضمون سنائے جائیں گے ۔ اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ اگر بد نیتی نہ ہو تو ایک شخص اپنے اعتراض کو نیک اور پاک پیرایہ میں بیان کر سکتا ہے ورنہ ایک مفسد آدمی ایک سیدھی بات کو بھی جو نرمی اور شرافت سے ادا کر سکتا تھا گالی اور ہنسی ٹھٹھے کے پیرایہ میں بیان کرسکتا ہے۔ سو ہم نے ان لوگوں کے جواب میں جس قدر تلخی اور مرارت بعض مقامات میں استعمال کی ہے وہ کسی نفسانی جوش کی وجہ سے نہیں (۳۵۵) بلکہ ہم نے اُن کی شورہ پشتی کا تدارک اسی میں دیکھا۔ کہ جواب تر کی بتر کی دیا جائے ہمیں اس طریق سے سخت نفرت ہے کہ کوئی تلخ اور ناگوار لفظ استعمال کیا