چشمہٴ معرفت — Page 348
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۸ چشمه معرفت وہ اعلیٰ درجہ کی تجلی سے مخصوص کئے جاتے ہیں دوسروں کو اس تجلی سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ اگر چہ خدا ایک ہے اور واحد لاشریک ہے مگر پھر بھی مختلف تجلیات کے اعتبار سے ہر ایک کا جدا جدا رب ہے۔ یہ نہیں کہ رب بہت ہیں رب ایک ہی ہے جو سب کا رب ہے اور کثرت کا قائل کافر ہے مگر تعلقات کے مختلف مراتب کے لحاظ سے اور صفات الہیہ کے ظہور کی کمی بیشی کے لحاظ سے ہر ایک کا جدا جدا رب کہنا پڑتا ہے جیسا کہ بہت سے آئینے اگر ایک چہرہ کے مقابل پر رکھے جائیں جن میں سے بعض آئینے اس قدر چھوٹے ہوں کہ جیسے آری کا شیشہ ہوتا ہے اور بعض اس سے بھی چھوٹے اور بعض اس قدر چھوٹے کہ گویا آرسی کے آئینہ سے بچا سواں حصہ ہیں اور بعض آرسی کے آئینہ سے کسی قدر بڑے ہیں اور بعض اس قدر بڑے ہیں کہ اُن میں پورا چہرہ نظر آ سکتا ہے پس اس میں شک نہیں کہ اگر چہ چہرہ ایک ہی ہے لیکن جس قدر آئینہ چھوٹا (۳۳۳) ہوگا چہرہ بھی اس میں چھوٹا دکھائی دے گا یہاں تک کہ بعض نہایت چھوٹے آئینوں میں ایک نقطہ کی طرح چہرہ نظر آئے گا اور ہرگز پورا چہرہ نظر نہیں آئے گا جب تک پورا آئینہ نہ ہو پس اس میں کچھ شک نہیں کہ چہرہ تو ایک ہے اور یہ بات واقعی صحیح ہے لیکن جو بظاہر مختلف آئینوں میں نظر آتا ہے اُس کی نسبت یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ وہ باعتبار اس نمائش کے ایک چہرہ نہیں ہے بلکہ کئی چہرے ہیں اسی طرح ربوبیت الہیہ ہر ایک کے لئے ایک درجہ پر ظاہر نہیں ہوتی ۔ انسانی نفس تزکیہ کے بعد ایک آئینہ کا حکم رکھتا ہے جس میں ربوبیت الہیہ کا چہرہ منعکس ہوتا ہے مگر کو کسی کے لئے تزکیہ نفس حاصل ہو گیا ہو مگر فطرت کے لحاظ سے تمام نفوس انسانیہ برابر نہیں ہیں کسی کا دائرہ استعداد بڑا ہے اور کسی کا چھوٹا ۔ جس طرح اجرام سماویہ چھوٹے بڑے ہیں۔ پس جو چھوٹی استعداد کا نفس ہے گو اس کا تزکیہ بھی ہو گیا مگر چونکہ استعداد کی رو سے اس نفس کا ظرف چھوٹا ہے اس لئے ربوبیت الہیہا در تجلیات ربانیہ کا عکس بھی اس میں چھوٹا ہوگا۔ پس اس لحاظ سے اگر چہ رب ایک ہے لیکن ظروف نفسانیہ میں منعکس ہونے کے وقت بہت سے