چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 339

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۳۹ چشمه معرفت وہ یہ ہے کہ نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ مع اپنے بھائیوں کے سخت مشکلات میں پھنس گئے تھے منجملہ اُن کے یہ کہ وہ ولی عہد کے ماتحت رعایا کی طرح قرار دیئے گئے تھے اور انہوں نے بہت کچھ کوشش کی مگر ناکام رہے اور صرف آخری کوشش یہ باقی رہی تھی کہ وہ نواب گورنر جنرل بہادر بالقابہ سے اپنی دادرسی چاہیں اور اس میں بھی کچھ امید نہ تھی کیونکہ اُن کے برخلاف قطعی طور پر حکام ماتحت نے فیصلہ کر دیا تھا۔ اس طوفان غم وہم میں جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے انہوں نے صرف مجھ سے دعا کی ہی درخواست نہ کی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر خدا تعالیٰ اُن پر رحم کرے اور اس عذاب سے نجات دے تو وہ تین ہزار (۳۲۴) نقد روپیہ بعد کامیابی کے بلا توقف لنگر خانہ کی مدد کے لئے ادا کریں گے۔ چنانچہ بہت سی دعاؤں کے بعد مجھے یہ الہام ہوا کہ اے سیف اپنا رخ اس طرف پھیر لے ۔ تب میں نے نواب محمد علی خان صاحب کو اس وحی الہی سے اطلاع دی۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ نے اُن پر رحم کیا اور صاحب بہادر وائسرائے کی عدالت سے اُن کے مطلب اور مقصود اور مراد کے موافق حکم نافذ ہو گیا۔ تب انہوں نے بلا توقف تین ہزار روپیہ کے نوٹ جو نذر مقرر ہو چکی تھی مجھے دے دیئے اور یہ ایک بڑا نشان تھا جو ظہور میں آیا۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ خدا کے نشان ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں اور ایسا کوئی مہینہ کم گذرتا ہے جس میں کوئی آسمانی نشان ظاہر نہ ہو لیکن یہ اس لئے نہیں کہ میری روح میں تمام روحوں سے زیادہ نیکی اور پاکیزگی ہے بلکہ اس لئے کہ خدا نے اس زمانہ میں ارادہ کیا ہے کہ اسلام جس نے دشمنوں کے ہاتھ سے بہت صدمات اٹھائے ہیں وہ اب سر نو تازہ کیا جائے اور خدا کے نزدیک جو اُس کی عزت ہے وہ آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ظاہر کی جائے ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایسے بدیہی طور پر سچا ہے کہ اگر تمام کفار روئے زمین دعا کرنے کے لئے ایک طرف کھڑے ہوں اور ایک طرف صرف