چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 325

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۲۵ چشمه معرفت ہو گیا ہے اور اندرونی طور پر تو کئی بوٹے خشک ہو کر جڑھ سے اکھڑ گئے ہیں یعنی جو لوگ اسلام کے مدعی تھے محض اُن کی زبان پر اسلام رہ گیا ہے۔ اور حقیقت اسلام کی اُن کے دلوں میں سے مفقود ہو چکی ہے اور شکوک و شبہات سے اکثر سینے بھر گئے ہیں بعض لوگ تو مسلمان کہلا کر خدا کے وجود کے بھی قائل نہیں اور بعض نے نیچریت کا جامہ پہن لیا ہے یعنی طبعیوں اور فلسفیوں کا لباس پہن کر خدا تعالیٰ کی خارق عادت قدرتوں سے منکر ہو بیٹھے ہیں اور بے قیدی اور آزادی کے طور پر زندگی بسر کرتے ہیں اور نماز روزہ اور حج زکوۃ پر ٹھٹھا مارتے اور بہشت دوزخ پر بھی ہنسی کرتے ہیں اور ملائک اور جنات کے قطعاً منکر ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ وہ اس فکر میں پڑ گئے ہیں کہ کسی طرح اسلام میں کچھ تغیر تبدل کر کے اپنی طرف سے ایک نیا اسلام بنایا جاوے جس میں تکالیف شرعیہ سے بکلی آزادی ہو۔ اور وضو اور غسل بھی نہ کرنا پڑے اور شراب وغیرہ محرمات کا بھی فتوی دیا جائے اور اسلام سے پردہ کی رسم بھی اٹھائی جائے اور آہستہ آہستہ دین اسلام میں فسق و فجور کا دروازہ کھولا جائے اور نمازوں کا پڑھنا اور عبادت کرنا اور خدا تعالیٰ کے راہ میں مجاہدات بجالانا یہ تمام احکام منسوخ کر دیے جائیں۔ چنانچہ میرے خیال میں اس ملک میں کئی لاکھ ایسے آدمی ہوں گے کہ جو اس قسم کے ہوں گے جن میں سے بعض تو سید احمد خان کے پیرو اور بعض اس سے بھی کئی قدم آگے بڑھے ہوئے ہیں اور درحقیقت یہ لوگ اسلام کا چولہ اپنے بدن پر سے اُتار چکے ہیں اور آہستہ آہستہ اسلام سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں مگر چونکہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے اس لئے ابھی تک مسلمان ہی کہلاتے ہیں مگر کھلے کھلے طور پر تحریر اور تقریر سے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور ایک فرقہ ایسا بھی نکلا ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ماثورہ پر ٹھٹھا مارتا اور ہنسی کرتا ہے اور تمام احادیث کو ر ڈیات کا ذخیرہ سمجھتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (۳۱) کو اتنی عزت بھی نہیں دیتا کہ وہ فہم قرآن میں دوسروں سے بڑھ کر ہیں اور یہ فرقہ بھی پنجاب میں کسی قدر پھیل گیا ہے۔