چشمہٴ معرفت — Page 310
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۱۰ چشمه معرفت ظاہر نہیں ہوتے تب اُس کی تمام امیدیں پاش پاش ہو جاتی ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ ترقی کرے تنزل کی طرف جھکتا ہے یہاں تک کہ ایک دن دہریوں کے رنگ میں ہو جاتا ہے اس سے ثابت ہے کہ مبارک وہی کتاب ہے کہ جو اپنے تازہ نشانوں سے امید کو دن بدن بڑھاتی ہے اور خدا کے ملنے کے آثار ظاہر کرتی ۔ انسان کی تمام کوششیں امید پر بنی ہیں جس زمین کی نسبت یہ امید ہی نہیں کہ اس سے پانی نکلے گا ہے۔ اس کے کھودنے کے لئے انسان اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتا۔ اگر تھوڑی کوشش کا نتیجہ انسان دیکھ لے تو بہت بھی کر سکتا ہے لیکن اگر کچھ بھی نتیجہ ظاہر نہ ہو تو رفتہ رفتہ ایمانی مدد منقطع ہو جاتی ہے آخر خدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھک جاتا ہے۔ دنیا کے علوم میں انسان خواہ کتنی ہی ترقی کرے اور خواہ کیسا ہی وہ طبعی اور ھیئت کا ماہر بن جائے اور خواہ دنیا کے تکمیل اسباب اور ایجادوں میں کتنی ہی فوقیت حاصل کرے مگر پھر بھی یہ سفلی کمالات اُس کو خدا تک نہیں پہنچا سکتے بلکہ اور بھی دل سخت کر دیتے ہیں اور ایک ناحق کی مشیخت اور تکبر کا موجب ہو جاتے ہیں ۔ تمام راستبازوں کے تجربہ سے یہ فیصلہ شدہ بات ہے کہ خدا کو بجز خدا کی ہی تجلی اور توجہ کے پانہیں سکتے ۔ اور اگر کوئی ایسی الہامی کتاب ہے کہ اپنی زندہ طاقت سے ہمارے لئے کوئی دروازہ نہیں کھولتی اور صرف ہمارے ہی دماغی خیالات کے ہمیں حوالہ کرتی ہے تو اس کا ہم پر کیا احسان ہے اور کونسی نئی معرفت ہم کو عطا کرتی ہے کیا اس قدر معرفت ہم خود حاصل نہیں کر سکتے ۔ وہ کیسا پر میشر ہے جو خود آریوں کے ہی دماغی خیالات کا ایک نتیجہ ہے اور اُس نے اپنے وجود کو اُن پر ظاہر نہیں کیا بلکہ وہ اس کو خود ظاہر کر رہے ہیں ایسا پر میشر تو ایک چوہے کے وجود سے بھی گرا ہوا ہے۔ چوہا بھی رات کے وقت اپنے پھرنے چلنے اور اپنی تیز حرکت یا کسی چیز کو کاٹنے سے خبر ۲۹۷ دے دیتا ہے کہ میں موجود ہوں مگر وید کا پر میشر تو اس قدر بھی خبر نہیں دے سکتا کچھ معلوم نہیں کہ اب وہ اس زمانہ میں زندہ بھی ہے یا نہیں ۔ پس ایسے پر میشر کو قبول کرنا جائے عار ہے