چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 289

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸۹ چشمه معرفت ہو یا وہ مرد در اصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے عورت کو اُس کے گھر میں آبا در بنا نا گوار ہو تو ان تمام حالتوں میں عورت یا اُس کے کسی ولی کو چاہیے کہ حاکم وقت کے پاس یہ شکایت کرے اور حاکم وقت پر یہ لازم ہوگا کہ اگر عورت (۲۷۶ کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کر دے اور نکاح کو تو ڑ دے لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلا نا ضروری ہوگا کہ کیوں نہ اُس کی عورت کو اُس سے علیحدہ کیا جائے۔ اب دیکھو کہ یہ کس قدر انصاف کی بات ہے کہ جیسا کہ اسلام نے یہ پسند نہیں کیا کہ کوئی عورت بغیر ولی کے جو اُس کا باپ یا بھائی یا اور کوئی عزیز ہو خود بخو دا پنا نکاح کسی سے کر لے ایسا ہی یہ بھی پسند نہیں کیا کہ عورت خود بخود مرد کی طرح اپنے شوہر سے علیحدہ ہو جائے بلکہ جدا ہونے کی حالت میں نکاح سے بھی زیادہ احتیاط کی ہے کہ حاکم وقت کا ذریعہ بھی فرض قرار دیا ہے تا عورت اپنے نقصان عقل کی وجہ سے اپنے تئیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے مگر وید میں یہ منصفانہ طریق کہاں ہے؟ میں اس معترض کی حالت سے نہایت تعجب میں ہوں کہ کس قدر یہ شخص سچائی کا دشمن ہے جس سے بمجبوری ہمیں کچھ وید کا حال بیان کرنا پڑتا ہے اگر یہ شخص ایسا بیہودہ اور اغواعتراض نہ کرتا تو ہمیں کیا ضرورت تھی کہ ہم وید کا ذکر کرتے ؟ ان لوگوں کی عجیب حالت ہے کہ اپنے وید کی خرابیوں پر کچھ بھی اطلاع نہیں رکھتے اور چاند پر تھوک رہے ہیں۔ افسوس !!! پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآنی تعلیم سورج اور چاند کی ماہیت سے بے علم ہے۔ اس بات کا جواب بجز اس کے کیا کہا جائے کہ اس بارے میں قرآنی تعلیم کو وید کی تعلیم کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھنا چاہیے۔ قرآن شریف نے سورج اور چاند کو خدا کی مخلوق ٹھیرایا ہے مگر ویدان دونوں کو خدا قرار دیتا ہے اور اُن کی پرستش کا حکم کرتا ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ گویا وہ دونوں خدا تعالیٰ کی طرح عالم الغیب اور قادر ہیں اور ہر ایک جوان کی پوجا کرے