چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 276

روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت حالت میں پیدا ہو جاتا ہے مگر خدا ان تغیرات سے پاک ہے اور اُس کا غضب ان معنوں سے ہے کہ وہ اس شخص سے جو شرارت سے باز نہ آوے اپنا سایہ حمایت اٹھا لیتا ہے اور اپنے قدیم قانون قدرت کے موافق اُس سے ایسا معاملہ کرتا ہے جیسا کہ ایک غضبناک انسان کرتا ہے لہذا استعارہ کے رنگ میں وہ معاملہ اُس کا غضب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی اُس کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں کیونکہ انسان غلبہ محبت میں بھی دُکھ اٹھاتا ہے اور محبوب کے علیحدہ اور جدا ہونے سے اُس کی جان کو تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا ان تکالیف سے پاک ہے ایسا ہی اُس کا قرب بھی انسان کے قرب کی طرح نہیں کیونکہ انسان جب ایک کے قریب ہوتا ہے تو اپنے پہلے مرکز کو چھوڑ دیتا ہے مگر وہ باوجود قریب ہونے کے دور ہوتا ہے اور باوجود دور ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کی ہر ایک صفت انسانی صفات سے الگ ہے اور صرف اشتراک لفظی ہے اس سے زیادہ نہیں اسی لئے خدا تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ ☆ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ ءٍ لے یعنی کوئی چیز اپنی ذات یا صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر نہیں ۔ اب ناظرین با انصاف پر ظاہر ہو کہ اسی مطلب کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ یعنی خداوہ ہے جس نے سب کچھ چھ دن میں پیدا کر کے پھر اپنے مقام وراء الوراء کی طرف ۲۶۵ توجہ کی اور عرش پر قرار پکڑا۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو شیبہی مرتبہ سے بالا تر اور ہر ایک عالم سے برتر اور نہاں در نہاں اور تقدس اور تنزہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا حمد حاشیہ: ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس آیت سے مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی تشویہی صفات کا اظہار فرما کر پھر اس مقام کی طرف توجہ کی جو بے مثل و مانند ہونے کا مقام ہے جس کو زبان شرع میں عرش کہتے ہیں جو تمام عالموں سے برتر اور وہم و خیال سے بلند تر ہے اور عرش کوئی مخلوق چیز نہیں ہے بلکہ محض وراء الوراء مقام کا نام عرش ہے جس سے مخلوق کو کوئی اشتراک نہیں ۔ 0 منه الشورى: ۱۲ الاعراف: ۵۵