چشمہٴ معرفت — Page 259
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۵۹ چشمه معرفت ان ایمانداروں پر عذاب کا ایک با قاعدہ سلسلہ قائم کیا گیا اور عجیب مصیبت میں اُن بے چاروں (۲۳۹ کی جان پھنس گئی ۔ محمد صاحب اپنی آنکھوں سے اُن بے چاروں پر یہ ظلم ہوتا دیکھ کر اُن کا جگر مظلوموں کی ہمدردی میں پاش پاش ہوتا تھا مگر کچھ نہ کر سکتے تھے۔ مومنوں کی یہ حالت دردناک دیکھ کر آپ نے انہیں یہ صلاح دی کہ تم نے راہِ خدا میں قدم رکھا ہے تم ان تکلیفوں سے نہ گھبراؤ اور اللہ کا نام لے کرابے سینیا کی طرف ہجرت کر جاؤ چنا نچہ اُن کے کہنے کے بموجب چند قبیلوں کے لوگ جو اپنی جان سے بھی تنگ تھے مع اپنے عیال واطفال کے اپنا گھر بار چھوڑ کر بے سینیا کی طرف روانہ ہو گئے اور اُن کے بعد اور بہت سے لوگوں نے ترک وطن اختیار کیا۔ جلاوطنی جس کو مسلمانوں نے ہجرت کے نام سے موسوم کیا ہے پانچویں سال نبوت میں وقوع میں آئی۔ جب قریش کو یہ خبر پہنچی کہ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تو انہوں نے وہاں تک تعاقب کیا اور نجاشی شاہ ابے سینیا کی خدمت میں پہنچے اور بعض کی نسبت یہ بیان کیا کہ بقیہ حاشیہ: کیا موقوف ہے جو شخص اسلامی تاریخ پڑھے گا اس کو معلوم ہوگا کہ صد با قصے اسی طرح کی بے رحمی (۲۳۸) کے ہیں ۔ علاوہ اس تختی کے جو مردوں سے کی گئی پاکدامن عورتوں کے ذلیل کرنے اور بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہ رکھی ۔ پس چونکہ خدا کا نام غیور بھی ہے لہذا اس نے تیرہ برس تک صبر کر کے خبیث کا فروں کو ان کے حُبت کا مزہ چکھایا۔ ظالم طبع لوگوں کا کام ہے کہ وہ یک طرفہ قصہ سنا کر ایک اعتراض بنالیتے ہیں لیکن اگر انصاف کے پابند ہوتے توان کو یہ بھی دیکھنا چاہیے تھا کہ مسلمانوں پر کیا کیا ظلم کیا گیا ہے۔ منہ ہلا حاشیہ یادر ہے کہ یہ عبارتیں ہم رسالہ سمی به سوانح عمری حضرت محمد صاحب سے نقل کر رہے ہیں جو ایک ۲۳۹) منصف مزاج پر ہم نے ( جو پر چارک براہم دھرم ہیں ) لکھ کر شائع کیا ہے۔ یہ رسالہ رفاہ عام سٹیم پریس لاہور میں چھپا ہے جس کا جی چاہے منگوا کر دیکھ لے۔ اس سے ایک بے تعصب آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جو اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنگ اور اس کے دوسرے لوازم غلام اور لونڈیاں بنانا ظہور میں آئے ان تمام امور میں پہلے کفار کی طرف سے سبقت تھی اور جب ان کی شرارت اور ظلم انتہا تک پہنچ گیا تب خدا نے جو صرف