چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 210

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱۰ چشمه معرفت كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرال الجز نمبر ۱۵ سورۃ بنی اسرائیل ( ترجمہ ) تیرے رب نے یہ حکم کیا ہے کہ تم فقط میری ہی پرستش کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں پس تو اُن کی نسبت کوئی بیزاری کا لفظ منہ پر مت لا اور اُن کومت جھٹرک اور سخت لفظ مت بول اور جب تو اُن سے بات کرے تو تعظیم اور ادب سے کر اور مہربانی کی راہ سے اُن دونوں کے آگے اپنے بازو جھکا دے اور دعا کرتارہ کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ انہوں نے بچپن کے زمانہ میں رحم کر کے میری پرورش کی۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ مِنْ تَرَكَ خَيْرَ الْوَصِيَّةُ ہے لِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصِ جَنَّفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ (الجز نمبر ۲ سورۃ البقرہ) ترجمہ ۔ تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جس وقت تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاوے تو اگر اُس نے کچھ مال چھوڑا ہے تو چاہئے کہ ماں باپ کے لئے اس مال میں سے کچھ وصیت کرے ایسا ہی خویشوں کے لئے بھی معروف طور پر جو شرع اور عقل کے رو سے پسندیدہ ہے اور مستحسن سمجھا جاتا ہے وصیت کرنی چاہیے یہ خدا نے پر ہیز گاروں کے ذمہ ایک حق ٹھیرا دیا ہے جس کو بہر حال ادا کرنا چاہیے یعنی خدا نے سب حقوق پر وصیت کو مقدم رکھا ہے ۲۰۲ اور سب سے پہلے مرنے والے کے لئے یہی حکم دیا ہے کہ وہ وصیت لکھے۔ اور پھر فرمایا کہ جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے تو یہ گناہ اُن لوگوں پر ہے جو جرم تبدیل وصیت کے عمداً مرتکب ہوں ۔ تحقیق اللہ سنتا اور جانتا ہے یعنی ایسے مشورے اُس پر مخفی نہیں رہ سکتے اور یہ نہیں کہ اُس کا علم ان باتوں کے جاننے سے قاصر ہے اور پھر فرمایا کہ جس شخص کو یہ خوف دامنگیر ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بھی اختیار کی ہے یعنی بغیر سوچنے سمجھنے کے کچھ غلطی کر بیٹھا ہے یا کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہے یعنی عمداً کوئی ظلم کیا ہے اور اُس نے اس بات پر اطلاع پا کر جن کے بنی اسرائیل : ۲۴، ۲۵ البقرة : ۱۸۱ تا ۱۸۳