چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 202

روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت اُن ایمانداروں کو نجات دے دی جو متقی اور پر ہیز گار تھے ۔ سوخدا کا مکر یہ تھا کہ جب شریر آدمی شرارت میں بڑھتے گئے تو ایک مدت تک خدا نے اپنے ارادہ عذاب کو مخفی رکھا ۔ اور جب اُن کی شرارت نہایت درجہ تک پہنچ گئی بلکہ انہوں نے ایک بڑا مکر کر کے خدا کے برگزیدوں کو قتل کرنا چاہا۔ تب وہ پوشیدہ عذاب خدا نے اُن پر ڈال دیا جس کی اُن کو کچھ بھی خبر نہ تھی اور اُن کے وہم وگمان میں نہ تھا کہ اس طرح ہم نیست و نابود کئے جائیں گے ۔ یہ اس ۱۹۴ بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کے برگزیدہ بندوں کوستا نا اچھا نہیں آخر خدا پکڑتا ہے کچھ مدت تک تو خدا اپنے ارادہ کو مخفی رکھتا ہے اور وہی اُس کا ایک مکر ہے مگر جب شریہ آدمی اپنی شرارت کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے تب خدا اپنے ارادہ کو ظاہر کر دیتا ہے پس نہایت بد قسمت وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ بندوں کے مقابل پر محض شرارت کے جوش سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اُن کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں آخر خدا اُن کو ہی ہلاک کرتا ہے ۔ اس کے بارہ میں رومی صاحب کا یہ شعر نہایت عمدہ ہے ۔ تا دل مرد خدا نامد بدرد بیچ قومی را خدا رسوا نه کرد پھر مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ اُس میں کسی کا مال لوٹنے کے لئے حکم نہ دیا گیا ہو ہم اس سے بھی یہی بات نکالتے ہیں کہ یا تو یہ شخص دید سے نا واقف ہے اور یا وید کے رشیوں کا پکا دشمن ہے کیونکہ بار بار وہی باتیں بیان کرتا ہے جو دید کی تعلیم کے مخالف ہیں۔ اس جگہ ہم بطور نمونہ ناظرین کے لئے رگوید کی چند شرتیاں لوٹ کے بارے میں لکھ دیتے ہیں اور وہ یہ ہیں : - اگنی کے آگے ایک دعا کر کے آخری فقرہ شرقی کا یہ ہے ۔ ایسا ہو کہ ہم لڑائیوں میں اپنے دشمنوں سے لوٹ حاصل کریں اے اندر گو ہم مستحق نہ ہوں پر تو ہمیں ہزار ہا گوئیں اور گھوڑے دے کر مالا مال کر ۔ اے خوبصورت اور طاقتور اندر خوراک کے مالک تیری شفقت ہمیشہ قائم رہتی ہے ہزاروں عمدہ گھوڑے اور گوئیں ہمیں دے ہر ایک کو جو ہمیں گالی دیتا ہے غارت کر یعنی اُن کا مال گوئیں وغیرہ ہمیں دے دے۔