چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 95

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۹۵ چشمه معرفت کہ شیطان اپنے تمام ذریات کے ساتھ ناخنوں تک زور لگا رہا ہے کہ اسلام کو نابود کر دیا (۸۷) جاوے اور چونکہ بلاشبہ سچائی کا جھوٹ کے ساتھ یہ آخری جنگ ہے اس لئے یہ زمانہ بھی اس بات کا حق رکھتا تھا کہ اس کی اصلاح کے لئے کوئی خدا کا مامور آوے۔ پس وہ مسیح موعود ہے جو موجود ہے اور زمانہ حق رکھتا تھا کہ اس نازک وقت میں آسمانی نشانوں کے ساتھ خدا تعالی کی دنیا پر حجت پوری ہو سو آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور آسمان جوش میں ہے کہ اس قدر آسمانی نشان ظاہر کرے کہ اسلام کی فتح کا نقارہ ہر ایک ملک میں اور ہر ایک حصہ دنیا میں بج جائے ۔ اے قادر خدا ! تو جلد وہ دن لا کہ جس فیصلہ کا تو نے ارادہ کیا ہے وہ ظاہر ہو جائے اور دنیا میں تیرا جلال چھکے اور تیرے دین اور تیرے رسول کی فتح ہو ۔ آمین ثم آمین۔ اب ہم پھر اصل مقصد کی طرف رجوع کر کے باقی ماندہ مضمون کی نسبت جو آریہ صاحبوں کی طرف سے جلسہ میں پڑھا گیا تھا کچھ لکھتے ہیں۔ چنانچہ مضمون خوان نے اسلام پر ایک یہ بھی اعتراض کیا کہ گویا اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن شریف اسی طرح کاغذوں پر یا پتھروں پر لکھا ہوا آسمان پر سے نازل ہوا تھا اور پھر خود ہی اس عقیدہ پر ٹھٹھا اڑا کر کہتا ہے کہ اول تو خدا آسمان پر بیٹھا ہوا نہیں اور پھر اگر ہم فرض بھی کر لیں تو ایسی کتاب اکاش سے گذرتی ہوئی جل سڑ جائے گی لیکن افسوس کہ یہ لوگ اس جہالت اور بے خبری کے ساتھ جو اسلام کی نسبت رکھتے ہیں پھر بھی جلدی سے اعتراض کر دیتے ہیں معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن شریف کا غذ پر لکھا ہوا آسمان سے نازل ہوا تھا۔ اس بات کو تو ایک ناخواندہ مسلمان بھی جانتا ہے کہ قرآن شریف کا نازل ہونا اس طور سے مانا جاتا ہے کہ وہ خدا کا پاک کلام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل ہوا اور اسی طرح ہم اب بھی خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت