براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 29
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۹ نصرة الحق کہ اصل غرض مذہب سے کیا ہے۔ اصل بدخواہ مذہب اور قوم کے وہی بدکردار لوگ ہوتے ہیں جو حقیقت اور کچی معرفت اور کچی پاکیزگی کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور صرف نفسانی جوشوں کا نام مذہب رکھتے ہیں۔ تمام وقت فضول لڑائی جھگڑوں اور گندی باتوں میں صرف کرتے ﴿۲۰﴾ ہیں اور جو وقت خدا کے ساتھ خلوت میں خرچ کرنا چاہیے وہ خواب میں بھی اُن کو میسر نہیں ہوتا ۔ بزرگوں کی نند یا تحقیر تو ہین ان کا کام ہوتا ہے اور خود اندر اُن کا نفسانی غلاظتوں سے اس قدر بھرا ہوا ہوتا ہے جیسا کہ سنڈ اس نجاست سے۔ زبان پر بک بک بہت مگر دل خدا سے دور اور دنیا کے گندوں میں غرق پھر مصلح قوم ہونے کا دعوی۔ ع خفته را خفتہ کے کند بیدار ایسے آدمی نہ خوف زدہ دل سے کسی کی بات سن سکتے ہیں نہ تحمل سے جواب دے سکتے ہیں۔ اُن کے نزدیک تمام اسلام نشانہ اعتراضات ہے کوئی بات بھی اچھی نہیں اور عجیب تریہ کہ وہ اس حالت پر خوش ہوتے ہیں اور کسی دوسری قوم کے انسان پر کوئی موذیا نہ ہاتھ ڈال کر خیال کرتے ہیں کہ ہم نے بہت ثواب کا کام کیا ہے یا بڑی ہمت اور جوانمردی دکھلائی ہے لیکن افسوس کہ اس زمانہ میں اکثر قو میں اسی تعصب کا نام مذہب خیال کرتی ہیں ۔ اور ہم اس خراب عادت سے عام مسلمانوں کو بھی باہر نہیں رکھتے ۔ پس وہ خدا کے نزدیک زیادہ مؤاخذہ کے لائق ہیں کیونکہ ان کو وہ دین دیا گیا تھا جس کا نام اسلام ہے جس کے معنے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں خود ظاہر فرمائے ہیں جیسا کہ فرمایا۔ بکی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ یعنی اسلام کے دوٹکڑے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی رضا میں ایسا محو ہو جانا کہ اپنی رضا چھوڑ کر اُس کی رضا جوئی کیلئے اُس کے آستانہ پر سر رکھ دینا اور دوسرے عام طور پر تمام بنی نوع سے نیکی کرنا۔ پس یہ دین کیسا پیارا اور نیک اور پاک اصولوں پر مبنی تھا جس کی تعلیموں سے وہ بہت دور پڑ گئے اور یہ تباہی اُس وقت پیدا ہوئی جبکہ قرآن شریف کی تعلیم سے عمد آیا غلطی سے اعراض البقرة : ١١٣