براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 448

اللہ تعالیٰ معرفت و شناخت انسان کی روح کو خدا تعالیٰ سے ایک تعلق ازلی ہے ۲۰۰ مذہب کی اصلی سچائی خدائے تعالیٰ کی ہستی کی شناخت سے وابستہ ہے ۶۰ جب تک خدائے تعالیٰ کی طرف سے انا الموجود کی آواز زوردار طاقتوں کے سنائی نہ دے اور فعلی طور پر اس کے ساتھ دوسرے زبردست نشان نہ ہوں اُس وقت تک اُس زندہ خدا پر ایمان آنہیں سکتا۔۳۰ خدا کی معرفت خدا کے ذریعہ سے ہی میسر آسکتی ہے اور خدا کو خدا کے ساتھ ہی شناخت کرسکتے ہیں۔اورخدا اپنی حجت آپ ہی پوری کرسکتا ہے ۷ خدائے تعالیٰ پر یقین کرنے کی دو راہیں۔معقولی اورسماوی ۳۷ خدا تعالیٰ کی ہستی پر معقولی دلیل۔کائنات کی پرحکمت صنعت اور ابلغ ترکیب ۳۹ وہ خدا جو حکیم اور عالم الغیب ہے اس کا ہر ایک کام اوقات سے وابستہ ہے ۴۱۲ خدا تعالیٰ عقلی طور پر اپنی خالقیت سے شناخت کیا جاتا ہے۔دوسرا طریق خدا تعالیٰ کا آسمانی نشان ہے ۳۸ معجزات نہ ہوں تو پھر خدا تعالیٰ کے وجود پر کوئی قطعی اور یقینی علامت نہیں رہتی ۵۶ خدا تعالیٰ کے نشانات کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا چہرہ نظر آتا ہے ۷۷ خدا تعالیٰ اپنے زبردست نشانوں کے ساتھ اپنے نبیوں کی صفائی اور اصطفاء کی شہادت دیتا ہے ۱۰۲ خدا تعالیٰ کی نصرت راستبازوں کے شامل حال رہتی ہے ۳۹ خدا کی خاص تجلی سے راستبازوں میں وہ برکتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو خدا میں ہیں ۶۵ خدا برحق ہے لیکن اس کا چہرہ دیکھنے کا آئینہ وہ منہ ہیں جن پر اس کے عشق کی بارشیں ہوئیں ۶۴ راستباز کی معجزانہ زندگی آسمان و زمین سے زیادہ خدا تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرتی ہے ۴۰ خدا تعالیٰ کا پانا اور اس کا دریافت کرنا گناہ سے روکتا ہے ۲۷ وہ تجلیات الہیہ قولی و فعلی جو معجزانہ رنگ میں کسی سعید دل پر نازل ہوتی ہیں وہ دکھا دیتی ہیں کہ خدا ہے ۳۳ جب تک خدا اپنی قولی و فعلی تجلیات سے اپنی ہستی ظاہر نہ کرے اس وقت تک انسان گناہ سے پاک نہیں ہو سکتا ۳۴ اللہ تعالیٰ کے وجود پر بعض عقلی دلائل کامل خداشناسی اور تزکیہ نفس کے لئے کافی نہیں ۶۰ اپنی ہستی کو محو کر کے خدا کی وحدت کو اپنے اوپر وارد کر لینا ہی کامل توحید ہے ۶۴ اگر خدا کا ارادہ انسان کے ارادہ کے مطابق نہ ہو تو انسان ہزار جدوجہد کرے اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکتا ۳ صفات الٰہیہ خدا تعالیٰ کی صفات کبھی معطل نہیں ہوتیں۔پس جیسا کہ وہ ہمیشہ سنتا رہے گا ایسا ہی وہ ہمیشہ بولتا بھی رہے گا ۳۵۵ اللہ تعالیٰ قدیم ہے اور ازل سے غیرمتبدل ہے لیکن ایک تبدیلی جس کی ہم کنہہ نہیں سمجھ سکتے مومن کی تبدیلی کے ساتھ خدا میں بھی ظہور میں آجاتی ہے ۲۴۲ وہ خدا سچا ہے جس کی صفات محض قصے نہیں بلکہ وہ ہمیشہ صادر ہوتی رہتی ہیں ۳۳ وہ قادر ہے کہ ایک تنہاگمنام کو اس قدر ترقی دے کہ لاکھوں انسان اس کے محب اور ارادتمند ہو جائیں ۱۳۳ خدا تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے۔اس کے فیوض کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ایسی دعاؤں کی سخت ضرورت ہے جو گریہ و بکا اور صدق وصفا اور درددل سے پر ہوں ۳۳