براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 426
یادداشتیں ۴۲۶ برامین احمدیہ حصہ پنجم وہ جن چیزوں میں اپنی خوشحالی دیکھتے ہیں در حقیقت وہ خوشحالی کا موجب نہیں ہوتیں۔ جو شخص بدی کے مقابل پر بدی نہیں کرتا اور معاف کرتا ہے وہ بلا شبہ تعریف کے لائق ہے ۔ مگر اس سے زیادہ وہ شخص تعریف کے لائق ہے جو عفو یا انتقام کا مقید نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہو کر مناسب وقت کام کرتا ہے۔ کیونکہ خدا بھی ہر ایک کے مناسب حال کام کرتا ہے جو سزا کے لائق ہے اس کو سزا دیتا ہے جو معافی کے لائق ہے اس کو معافی دیتا ہے ۔ جزَ و سَيِّئَاةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ دنیا میں دو فرقے بہت ہیں۔ ایک تو وہ جو عدل کو پسند کرتے ہیں ۔ اور دوسرے وہ جو احسان کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں ۔ اور تیسرا فرقہ وہ ہے جو سچی ہمدردی اس قدر ان پر غالب آجاتی ہے کہ وہ عدل اور احسان کا پابند نہیں رہتا۔ بلکہ سچی ہمدردی کی رہنمائی سے مناسب وقت عمل کرتا ہے ۔ جیسا کہ ماں اپنے بچہ کے ساتھ سلوک کرتی ہے کہ شیر ہیں اور لذیذ غذا ئیں بھی اس کو اور پھر مناسب وقت پر تاریخ دوا بھی دیتی ہے اور دونوں حالتوں میں اس کی ۔ میرے بیان میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہوگا جو گورنمنٹ انگریزی کے برخلاف ہو ۔ اور ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار ہیں کیونکہ ہم نے اس سے امن اور آرام پایا ہے ۔ میں اپنے دعوی کی نسبت اس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کے انتخاب سے بھیجا گیا ہوں تا میں مغالطوں کو رفع کروں اور پیچیدہ مسائل کو صاف کر دوں اور اسلام کی روشنی دوسری قوموں کو دکھلاؤں ۔ اور یادر ہے کہ جیسا کہ ہمارے مخالف ایک مکروہ صورت اسلام کی دکھلا رہے ہیں ۔ یہ صورت اسلام کی نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا چمکتا ہوا ہیرا ہے جس کا ہر ایک گوشہ چمک رہا ہے اور جیسا کہ ایک بڑے محل میں بہت سے چراغ ہوں اور کوئی چراغ کسی دریچہ سے نظر آوے اور کوئی کسی کو نہ سے ۔ یہی حال الشورى : ۴۱