براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 412
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۱۲ خاتمہ نصرۃ الحق نے تمام وہ امور جو براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں مخفی اور مستور تھے اُن پر ہر ایک پہلو سے روشنی ڈال دی۔ ایک طرف وہ موعودہ پیشگوئیاں جن کے ظہور کی انتظار تھی کافی طور پر ظہور میں آگئیں اور دوسری طرف قرآنی حقائق اور معارف جو معرفت کو کامل کرتے تھے بخوبی کھل گئے اور ساتھ اس کے اسماء الانبیاء کا راز بھی جو پہلے چار حصوں میں سر بستہ تھا یعنی وہ نبیوں کے اسماء جو میری طرف منسوب کئے گئے تھے ان کی حقیقت بھی کما حقہ منکشف ہوگئی یعنی یہ راز بھی کہ خدا تعالیٰ نے تمام انبیاء علیهم السّلام کا نام براہین احمدیہ کے خصص سابقہ میں میرا نام کیوں رکھ دیا ہے اور نیز یہ راز بھی کہ اخیر پر بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام جو عیسی ہے اور اسلام کے خاتم الانبیاء کا نام جو احمد اور محمد ہے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ دونوں نام بھی میرے نام کیوں رکھ دیئے ؟ ان تمام چھپی ہوئی حقیقوں کا بھی انکشاف ہو گیا ۔ اور میرا نام آسمان پر عیسی وغیرہ ہونا وہ راز تھا جس کو اسی طرح خدا تعالیٰ نے صد ہا سال تک مخفی رکھا تھا جیسا کہ اصحاب کہف کو مخفی رکھا تھا۔ اور ضرور تھا کہ وہ تمام را از سر بستہ رہیں جب تک کہ وہ زمانہ آجائے جو ابتدا سے مقدر تھا۔ اور جب وہ زمانہ آ گیا اور یہ تمام باتیں پوری ہوگئیں تو وقت آگیا کہ پنجم حصہ لکھا جائے ۔ پس اسی بات نے براہین احمدیہ کی تکمیل کو تیس برس تک معرض التوا میں رکھا تھا۔ یہ خدا کے اسرار ہیں جن پر انسان بجز اُس کے مطلع کرنے کے اطلاع نہیں پاسکتا۔ ہر ایک انسان جو اس پنجم حصہ کو پڑھے گا وہ اس بات کے لئے مجبور ہوگا کہ یہ اقرار کرے کہ اگر ان پیشگوئیوں اور دوسرے اسرار کے کھلنے سے پہلے پنجم حصہ لکھا جاتا تو وہ گذشتہ حصوں کی حقیقت دکھلانے کے لئے ہرگز آئینہ نہ ٹھہر سکتا بلکہ اس کا لکھنا محض بے ربط اور بے تعلق ہوتا ۔ پس وہ خدا جو حکیم اور عالم الغیب ہے اور ہر ایک کام اس کا اوقات سے وابستہ ہے ۔ ۔ اس نے یہی پسند کیا کہ اول وہ تمام پیشگوئیاں اور تمام حقیقتیں ظاہر ہو جا ئیں جو حصص سابقہ کے وقت میں ابھی ظاہر نہیں ہوئی تھیں پھر بعد میں پنجم حصہ لکھا جائے تا وہ ان تمام امور کے