براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 384

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مبلغ دو مور و پیہ نقد دوں گا۔ ایسے شخص کو صرف یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ حدیث جس کو وہ پیش کرتا ہے وہ حدیث صحیح نبوی ہے یا گذشتہ عرب کے شاعروں میں سے کسی ایسے شاعر کا قول ہے جو علم محاورات عرب میں مسلم الکمال ہے اور یہ ثبوت دینا بھی ضروری ہوگا کہ قطعی طور پر اس حدیث یا اس شعر سے ہمارے دعوی کے مخالف معنے نکلتے ہیں اور ان معنوں سے جو ہم لیتے ہیں وہ مضمون فاسد ہوتا ہے یعنی وہ حدیث یا وہ شعر ان معنوں پر قطعیۃ الدلالت ہے۔ کیونکہ اگر اُس حدیث یا اُس شعر میں ہمارے معنوں کا بھی احتمال ہے تو ایسی حدیث یا ایسا شعر ہر گز پیش کرنے کے لائق نہ ہوگا کیونکہ کسی فقرہ کو بطور نظیر پیش کرنے کے لئے اُس مخالف مضمون کا قطعیۃ الدلالت ہونا شرط ہے۔ وجہ یہ کہ جس حالت میں صدہا نظائر قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہو چکا ہے کہ توفی کا لفظ اس صورت میں کہ خدا تعالیٰ اس کا فاعل اور کوئی علم یعنی کوئی نام لے کر انسان اس کا مفعول به ہو، بجز وفات دینے اس مفعول بہ کے کسی دوسرے معنوں پر آہی نہیں سکتا تو پھر ان نظائر متواترہ کثیرہ کے برخلاف جو شخص دعوی کرتا ہے۔ یہ بار ثبوت اس کی گردن پر ہے کہ وہ ایسی کوئی صریح نظیر جو قطعیة الدلالت ہو بر خلاف ہمارے دعوی کے پیش کرے ۔ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنُ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ پھر دوسری پختہ اور قطعی دلیل حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر خدا تعالیٰ کا یہ قول ہے بل رفعه الله الیه - کیونکہ قرآن شریف اور احادیث کی تنتج سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رفع الی اللہ جو رفعه الله الیہ کے فقرہ سے ظاہر ہے بجز موت کی حالت کے کسی حالت کی نسبت بولا نہیں جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یائتها النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إلى ۲۱۲ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِی ۔ یعنی اے نفس مطمئنہ جو خدا سے آرام یافتہ ہے اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ اس حالت میں کہ خدا تجھ سے راضی اور تو خدا سے راضی اور میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت میں داخل ہو جا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ مقولہ اللہ جل شانہ کا کہ خدا کی طرف واپس چلا آ کوئی اہل اسلام میں سے اس کے البقرة : ۲۵ الفجر : ۲۸ تا ۳۱