براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 318
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۱۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۵۰ وان شاء لـم أبـعـث مـقـام ابن مريم وللـه فـي اقدار ما يُحيرُ اور خدا کو اپنی قضاء و قدر میں ایسے ایسے امور ہیں جو اور اگر خدا چاہتا تو میں ابن مریم کی جگہ مبعوث نہ ہوتا حیران کر دیتے ہیں و لا يُسئل الرحمن عن امر قضى ويُسئل قوم ضل عما تخيروا اور وہ قوم جو گمراہ ہو جائے وہ پوچھی جاتی ہے کہ کیوں اور خدا اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا ایسا کام کیا کذلک عادته جرت في قضائه فيـخـتـار مـا يـعـمـى عيـونا ويَأْطَرُ پس وہ ایسے امور اختیار کرتا ہے، جن سے آنکھیں اندھی اسی طرح اس کی عادت اپنے ارادہ میں جاری ہے ہو جاتی ہیں اور ٹیڑھی کر دیتا ہے و ما كان لي ان اترك الحق خيفةً جواد لنا عند الوغى يَتَمَطَّرُ اور میں ایسا نہیں ہوں کہ حق کو ڈر کر چھوڑ دوں ہمارا وہ گھوڑا ہے جو جنگ کے وقت جلدی سے چلتا ہے وقالوا اذا ما الحرب طال زمانها لنا الفتح فانظر كيف دُقوا و كُسّروا اور جب ایک لڑائی لمبی ہو گئی تو وہ کہنے لگے کہ فتح ہماری ہے پس دیکھ کس طرح وہ پیسے گئے و ما ان رأينا في الميادين فتحهم ومن غره حول رأيناه يُدير اور ہم نے میدانوں میں اُن کی فتح نہیں دیکھی اور جس کو کسی طاقت نے مغرور کیا ہم نے اس کو پیٹھ پھیرتے دیکھا رأينا عناية حبنا عند أثرة و كل صديق في الشدائد يُخبر ہم نے اپنے دوست کی عنایت کو سختی کے وقت دیکھا اور ہر ایک دوست سختیوں کے وقت آزمایا جاتا ہے أرى النفس لا تدري لغويا بسبُله وما أَن أَرَاهَا عند خوف تأخرُ میں اپنے نفس کو دیکھتا ہوں کہ اُس کی راہوں میں رکتا نہیں اور میں نہیں دیکھتا کہ وہ خوف کے وقت پیچھے ہے و اني نسيت الهم والغم والبلا اذا جاء ني نصر ووحى يُبشر اور میں نے هستم اور غم اور بلا کو بھلا دیا جب اس کی مدداور وحی بشارت دینے والی میرے پاس آئی وانا بفضل الله نطوى شعابنا على هاجراتٍ مثل ريح تُصَرْصِرُ اور ہم خدا کے فضل سے اپنی راہ طے کر رہے ہیں ایسی اونٹنیوں پر جو تیز ہوا کی طرح چلتی ہیں