براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 287

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۸۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اس شخص کو اقرار ہے کہ یہودیوں کا مسیح موعود نہیں آئے گا جب تک کہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آسمان سے نازل ہو کر نہ آوے۔ اور معلوم ہے کہ اب تک الیاس نبی آسمان سے نازل نہیں ہوا جس کا نازل ہونا مسیح موعود سے پہلے ضروری ہے تو ہم کیونکر اس کو سچا مسیح موعود سمجھے لیں۔ کیا ہم اپنے ایمان کو ضائع کر دیں یا تو ریت سے روگردان ہو جائیں کیا کریں۔ اور جب کہ کھلے کھلے لفظوں میں ملا کی نبی نے خدا تعالیٰ سے وحی پا کر ہمیں خبر دی ہے کہ ضرور ہے کہ مسیح موعود یہودیوں میں پیدا نہ ہو جب تک کہ خدا کے وعدہ کے موافق الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے تو پھر یہ شخص یہودیوں کا سیح موعود کیونکر ہوسکتا ہے اور جب کہ ایسی یہودیوں کا یہ مذہب ہے کہ مسیح دو ہیں (۱) ایک وہ مسیح جو پہلے آنے والا ہے جس کے لئے یہ شرط ہے کہ اس سے پہلے الیاس دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ یہی مسیح تھا جس کی نسبت حضرت عیسی نے دعوی کیا کہ وہ میں ہوں مگر یہودی فاضلوں نے اس دعوے کو قبول نہ کیا اور کہا کہ یہ دعوی نصوص صریحہ کتاب اللہ کے مخالف ہے۔ وجہ یہ کہ جیسا کہ خدا کی کتاب بتلاتی ہے الیاس دوبارہ آسمان سے زمین پر نہیں آیا۔ حضرت عیسی نے بار بار کہا کہ ایسی عبارتیں استعارہ کے رنگ میں ہوتی ہیں اور الیاس سے مراد اس جگہ بیچی یعنی یوحنا نبی ہے مگر چونکہ یہودی سخت ظاہر پرست تھے انہوں نے اس تاویل کو قبول نہ کیا اور اب تک اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو قبول نہیں کرتے اور بہت توہین کرتے ہیں (۲) دوسرا میچ جس کی یہودیوں کو انتظار ہے وہ ہے جس کی نسبت ان کا عقیدہ ہے کہ وہ چھٹے ہزار کے اخیر میں آئے گا اس لئے آج کل نہایت اضطراب یہودیوں میں ہے کیونکہ قمری حساب کی رو سے چھٹا ہزار آدم سے ختم ہو گیا اور اب ساتواں ہزار چل رہا ہے نگر و مسیح موعود اب تک نہیں آیا۔ عیسائیوں سے محققین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ آمد ثانی ان کے مسیح کی چھٹے ہزار کے آخر میں ہوگی۔ اب وہ بھی نومیدی میں پڑ گئے کیونکہ چھٹے ہزار کا خاتمہ ہوگیا آخر انہوں نے نومید ہو کر یہ رائے ظاہر کی ہے کہ کلیسیا کو ہی صحیح سمجھ لو اور آنے والے سے ہاتھ دھو بیٹھو۔ غرض یہودیوں کے نزدیک مسیح دو ہیں اور آخری مسیح موعود جو چھٹے ہزار کے آخر میں آنے والا تھا وہ ان کے نزدیک پہلے مسیح سے بہت افضل اور صاحب اقبال ہے مگر وہ تو دونوں مسیحوں سے محروم رہے نہ وہ ملا نہ وہ ملا۔ منہ