براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 4

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴ دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کسی مذہب کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یعنی اس بات کے ثبوت کے لئے کہ وہ مذہب منجانب اللہ ہے دوقسم کی فتح کا اس میں پایا جانا ضروری ہے۔ اول۔ یہ کہ وہ مذہب اپنے عقائد اور اپنی تعلیم اور اپنے احکام کی رُو سے ایسا جامع اور اکمل اور اتم اور نقص سے دُور ہو کہ اس سے بڑھ کر عقل تجویز نہ کر سکے۔ اور کوئی نقص اور کمی اُس میں دکھلائی نہ دے۔ اور اس کمال میں وہ ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہو یعنی ان خوبیوں میں کوئی مذہب اُس کے برابر نہ ہو ۔ جیسا کہ یہ دعویٰ قرآن شریف نے آپ کیا ہے کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دینا یعنی آج میں نے تمہارے لئے اپنا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کیا۔ اور میں نے پسند کیا کہ اسلام تمہارا مذہب ہو ۔ یعنی وہ حقیقت جو اسلام کے لفظ میں پائی جاتی ہے جس کی تشریح خود خدا تعالیٰ نے اسلام کے لفظ کے بارہ میں بیان کی ہے اس حقیقت پر تم قائم ہو جاؤ۔ اس آیت میں صریح یہ بیان ہے کہ قرآن شریف نے ہی کامل تعلیم عطا کی ہے اور قرآن شریف کا ہی ایسا زمانہ تھا جس میں کامل تعلیم عطا کی جاتی۔ پس یہ دعوی کامل تعلیم کا جو قرآن شریف نے کیا یہ اُسی کا حق تھا اس کے سوا کسی آسمانی کتاب نے ایسا دعویٰ نہیں کیا جیسا کہ دیکھنے والوں پر ظاہر ہے کہ توریت اور انجیل دونوں اس دعوے سے دست بردار ہیں کیونکہ توریت میں خدا تعالیٰ کا یہ قول موجود ہے کہ میں تمہارے بھائیوں میں سے ایک نبی قائم کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو شخص اس کے کلام کو نہ سنے گا میں اس سے مطالبہ کروں گا۔ پس صاف ظاہر ہے کہ اگر آئندہ زمانہ کی ضرورتوں کی رُو سے توریت کا سننا کافی ہوتا تو کچھ ضرورت نہ تھی کہ کوئی اور نبی آتا۔ اور مواخذہ الہیہ سے مخلصی پانا اُس کلام کے سنے پر موقوف ہوتا جو اُس پر نازل ہوتا۔ ایسا ہی انجیل نے کسی مقام میں دعوی نہیں کیا کہ انجیل کی تعلیم کامل اور جامع ہے بلکہ صاف اور ل المآئدة: