براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 221
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۲۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نبی جناب الہی سے بہت نزدیک چلا گیا۔ اور پھر مخلوق کی طرف جھکا اور اس طرح پر دونوں حقوں کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا۔ اور دونوں قسم کا حسن روحانی ظاہر کیا۔ اور دونوں قوسوں میں وتر کی طرح ہو گیا۔ یعنی دونوں قوسوں میں جو ایک درمیانی خط کی طرح ہو اور اس طرح اس کا وجود واقع ہوا جیسے یہ۔ خالق مخلوق قوس قوس درمیانی خطاً تخضرت اس حسن کو ناپاک طبع اور اندھے لوگوں نے نہ دیکھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ یعنی تیری طرف وہ دیکھتے ہیں مگر تو انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ آخر وہ سب اندھے ہلاک ہو گئے ۔ اس جگہ بعض جاہل کہتے ہیں کہ کیوں کامل لوگوں کی بعض دُعائیں منظور نہیں ہوتیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اُن کی تجلی حسن کو خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے۔ پس جس جگہ یہ تجلی عظیم ظاہر ہو جاتی ہے اور کسی معاملہ میں اُن کا حسن جوش میں آتا ہے اور اپنی چمک دکھلاتا ہے تب اس چمک کی طرف ذرات عالم کھنچے جاتے ہیں اور غیر ممکن باتیں وقوع میں آتی ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں معجزہ کہتے ہیں مگر یہ جوش روحانی ہمیشہ اور ہر جگہ ظہور میں نہیں آتا اور تحریکات خارجیہ کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ اس لئے کہ جیسا کہ خدائے کریم بے نیاز ہے اس نے اپنے برگزیدوں میں بھی بے نیازی کی صفت رکھ دی ہے۔ سودہ خدا کی طرح سخت بے نیاز ہوتے ہیں اور جب تک کوئی پوری خاکساری اور اخلاص کے ساتھ اُن کے رحم کے لئے ایک تحریک پیدانہ کرے وہ قوت اُن کی جوش نہیں مارتی اور عجیب تریہ کہ وہ لوگ تمام دنیا سے زیادہ تر رحم کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں مگر اُس کی تحریک اُن کے اختیار میں نہیں ہوتی گو وہ بارہا چاہتے بھی ہیں کہ (۱۳) وہ قوت ظہور میں آوے مگر بجز ارادہ الہیہ کے ظاہر نہیں ہوتی ۔ بالخصوص وہ منکروں اور منافقوں اور الاعراف : ١٩٩