براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 206
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۰۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم دے کر اپنا گھر ویران کر لیتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ سیلاب شہوت ایساتند اور تیز ہے کہ بخل جیسی نجاست کو بھی بہا لے جاتا ہے۔ اس لئے یہ بدیہی امر ہے کہ بہ نسبت اس قوت ایمانی کے جس کے ذریعہ سے بخل دور ہوتا ہے اور انسان اپنا عزیز مال خدا کے لئے دیتا ہے یہ قوتِ ایمانی جس کے ذریعہ سے انسان شہوات نفسانیہ کے طوفان سے بچتا ہے نہایت زبر دست اور شیطان کا مقابلہ کرنے میں نہایت سخت اور نہایت دیر پا ہے کیونکہ اس کا کام یہ ہے کہ نفس امارہ جیسے (۲۹) پرانے اثر دبا کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالتی ہے۔ اور بخل تو شہوات نفسانیہ کے پورا کرنے کے جوش میں اور نیز ریا اور نمود کے وقتوں میں بھی دور ہو سکتا ہے مگر یہ طوفان جو نفسانی شہوات کے غلبہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ نہایت سخت اور دیر پا طوفان ہے جو کسی طرح بجز رحم خداوندی کے دور ہو ہی نہیں سکتا اور جس طرح جسمانی وجود کے تمام اعضاء میں سے ہڈی نہایت سخت ہے اور اس کی عمر بھی بہت لمبی ہے اسی طرح اس طوفان کے دور کرنے والی قوت ایمانی نہایت سخت اور عمر بھی لمبی رکھتی ہے تا ایسے دشمن کا دیر تک مقابلہ کر کے پامال کر سکے اور وہ بھی خدا تعالی کے رحم سے کیونکہ شہوات نفسانیہ کا طوفان ایک ایسا ہولناک اور پر آشوب طوفان ہے کہ بجز خاص رحم حضرت احدیت کے فرو نہیں ہوسکتا۔ اسی وجہ سے حضرت یوسف کو کہنا پڑا وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّى یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا نفس نہایت درجہ بدی کا حکم دینے والا ہے اور اس کے حملہ سے مخلصی غیر ممکن ہے مگر یہ کہ خود خدا تعالیٰ رحم فرما دے۔ اس آیت میں جیسا کہ فقرہ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ہے طوفان نوح کے ذکر کے وقت بھی اسی کے مشابہ الفاظ ہیں کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللهِ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ کے پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طوفان شہوات نفسانیہ اپنی عظمت اور ہیبت میں نوح کے طوفان سے مشابہ ہے۔ يوسف : ۵۴ هود : ۴۴