براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 169
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کی ہے جس میں کھجوروں کے درخت ہیں۔ پس میرا خیال اس طرف گیا کہ وہ زمین بیامه یاز مین ہجر ہے مگر وہ مدینہ نکالا یعنی یشرب۔ اب دیکھو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کی رؤیا وحی ہے اور جن کا اجتہاد سب اجتہادوں سے اسلم اور اقومی اور اصح ہے اپنی رؤیا کی یہ تعبیر کی تھی کہ یمامہ یا ہجر کی طرف ہجرت ہوگی۔ مگر وہ تعبیر صحیح نہ نکلی۔ پس کیا یہ پیشگوئی آپ کے نزد یک پیشگوئی نہیں ہے؟ اور کیا آپ طیار ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک حملہ کر دیں۔ پس جب کہ اجتہادی غلطی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہیں تو پھر آپ کا یہ کیا ایمان ہے کہ تعصب کے جوش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی بھی کچھ پر انہیں کرتے اور خدا تعالی سے کچھ شرم نہیں۔ اور پھر بچے منصف بن کر اور خدا ترسی کا دھیان رکھ کر عفت الديار کے الفاظ کی طرف دیکھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ طاعون پر صادق آتے ہیں یا زلزلہ پر۔ کیا یہ ایمانداری ہے کہ جب کہ واقعہ موعودہ کے ظہور نے عفت الدیار کے معنوں کو خود کھول دیا پھر بھی اس سے مراد طاعون ہی سمجھیں۔ اس پیشگوئی کے الفاظ صاف طور پر پکا ر رہے ہیں کہ وہ (1) ایک حادثہ ہے جس سے عمارتیں گر جائیں گی اور ایک حصہ ملک کی بستیوں کا نابود ہو جائے گا۔ اگر آپ عربی نہیں جانتے تو کسی عربی دان سے پوچھ لیں کہ عفت الديار محلها و مقامها کے کیا معنے ہیں اور اگر کسی پر اعتبار نہ ہو تو اس مصرع کے معنے جو شارح نے لکھے ہیں وہ دیکھ لیں اور وہ معنے یہ ہیں اِندَرَسَتْ دِيَارُ الْأَحْبَابِ وَالْمَحَى مَا كَانَ مِنْهَا لِلْحَولَ وَمَا كَانَ لِلإِقَامَةِ ( دیکھو معلقه چهارم شرح مصرع اول ) یعنی دوستوں کی ☆ بستیاں اور اُن کے گھر نابود ہو گئے اور وہ عمارتیں نابود ہو گئیں جو چند روزہ اقامت کے لئے تھیں جیسے سرائے یا قوموں کی زیارت گا ہیں۔ اور وہ عمارتیں بھی نابود ہو گئیں جو مستقل سکونت کی تھیں ۔ اب بتلاؤ یہ معنے طاعون پر کیونکر صادق آسکتے ہیں اور طاعون کو عمارتوں کے گرنے سے کیا تعلق ہے۔ ان معنوں میں اور خدا تعالیٰ کی وحی کے معنوں میں صرف ماضی اور ہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے" لِلْحَلُولِ ہونا چاہیے۔ (ناشر)