براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 142

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۲ براہین احمدیہ حصہ پنجم جن کو ہے انکار اس سے سخت ناداں ہیں وہ لوگ آدمی کیونکر کہیں جب اُن میں سے حمق حمار ۱۲ کیا یہی اسلام کا ہے دوسرے دینوں پر فخر کر دیا قصوں پہ سارا ختم دیں کا کاروبار مغز فرقانِ مطہر کیا یہی ہے زہد خشک کیا یہی چوہا ہے نکلا کھود کر یہ کوہسار گر یہی اسلام ہے بس ہو گئی اُمت ہلاک کس طرح رہ ہل سکے جب دیں ہی ہو تاریک و تار منہ کو اپنے کیوں بگاڑا نااُمیدوں کی طرح فیض کے در کھل رہے ہیں اپنے دامن کو پیار کس طرح کے تم بشر ہو دیکھتے ہو صد نشاں پھر وہی ضد و تعصب اور وہی کین و نقار بات سب پوری ہوئی پر تم وہی ناقص رہے باغ میں ہو کر بھی قسمت میں نہیں دیں کے ثمار دیکھ لو وہ ساری باتیں کیسی پوری ہو گئیں جن کا ہونا تھا بعید از عقل و فہم و افتکار اُس زمانہ میں ذرہ سوچو کہ میں کیا چیز تھا جس زمانہ میں براہیں کا دیا تھا اشتہار پھر ذرہ سوچو کہ اب چرچا مرا کیسا ہوا کس طرح سرعت سے شہرت ہوگئی در ہر دیار جانتا تھا کون کیا عزت تھی پبلک میں مجھے کسی جماعت کی تھی مجھ سے کچھ ارادت یا پیار تھے رجوع خلق کے اسباب مال و علم و حکم خاندانِ فقر بھی تھا باعث عز و وقار لیک ان چاروں سے میں محروم تھا اور بے نصیب ایک انساں تھا کہ خارج از حساب و از شمار پھر رکھایا نام کافر ہو گیا مطعون خلق کفر کے فتووں نے مجھ کو کر دیا بے اعتبار اس پہ بھی میرے خدا نے یاد کر کے اپنا قول مرجع عالم بنایا مجھ کو اور دین کا مدار سارے منصوبے جو تھے میری تباہی کے لئے کر دیئے اُس نے تہبہ جیسے کہ ہو گرد و غبار سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے کوئی بتلائے نظیر اس کی اگر کرنا ہے وار فکر انسان کو مٹا دیتا ہے انسان دیگر پر خدا کا کام کب بگڑے کسی سے زینہار مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں روسیہ ۔ جلد تر ہوتا ہے برہم افترا کا کاروبار