براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 119
روحانی خزائن جلد ۲۱ 119 براہین احمدیہ حصہ پنجم ذوالقرنین ہوں اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کی ان آیتوں کی نسبت جو سورہ کہف میں ذوالقرنین کے قصہ کے بارے میں ہیں میرے پر پیشگوئی کے رنگ میں معنی کھولے ہیں ۔ میں ذیل میں ان کو بیان کرتا ہوں مگر یادر ہے کہ پہلے معنوں سے انکار نہیں ہے وہ گذشتہ سے متعلق ہیں اور یہ آئندہ کے متعلق ۔ اور قرآن شریف صرف قصہ گو کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے ایک پیشگوئی ہے ۔ اور ذوالقرنین کا قصہ مسیح موعود کے زمانہ کیلئے ایک پیشگوئی اپنے اندر رکھتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف کی عبارت یہ ہے وَيَسْتَلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا لا لا یعنی یہ لوگ تجھ سے ذوالقرنین کا حال دریافت کرتے ہیں۔ ان کو کہو کہ میں ابھی تھوڑا سا تذکرہ ذوالقرنین کا تم کو سناؤں گا اور پھر بعد اس کے فرمایا۔ اِنَّا مَكَنَّالَهُ فِي الْأَرْضِ وَأَتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا یعنی ہم اس کو یعنی مسیح موعود کو جو ذوالقرنین بھی کہلائے گا روئے زمین پر ایسا مستحکم کریں گے کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور ہم ہر طرح سے ساز و سامان اس کو دے دیں گے۔ اور اُس کی کارروائیوں کو سہل اور آسان کر دیں گے۔ یادر ہے کہ یہ وحی براہین احمدیہ حصص سابقہ میں بھی میری نسبت ہوئی ہے جیسا کہ اللہ فرماتا ہے الـم نـجـعـل لك سهولة فی کل امر یعنی کیا ہم نے ہر ایک امر میں تیرے لئے آسانی نہیں کر دی۔ یعنی کیا ہم نے تمام وہ سامان تیرے لئے میسر نہیں کر دیئے جو تبلیغ اور اشاعت حق کے لئے ضروری تھے۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس نے میرے لئے وہ سامان تبلیغ اور اشاعت حق کے میسر کر دئیے جو کسی نبی کے وقت میں موجود نہ تھے ۔ تمام قوموں کی آمد ورفت کی راہیں کھولی گئیں۔ طے مسافرت کے لئے وہ آسانیاں کر دی گئیں کہ برسوں کی راہیں دنوں میں طے ہونے لگیں اور خبر رسانی کے وہ ذریعے میہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذوالقرنین کا ذکر صرف گزشتہ زمانہ سے وابستہ نہیں بلکہ آئندہ زمانہ میں بھی ایک ذوالقرنین آنے والا ہے اور گزشتہ کا ذکر تو ایک تھوڑی سی بات ہے۔ منہ الكهف : ۸۴ الكهف : ۸۵