براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 117

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۱۷ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور سخت مخالف جو عناد میں حد سے بڑھ گئے تھے جن کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا گیا اس زمانہ کے اکثر لوگ بھی اُن سے مشابہ ہیں اگر وہ تو بہ نہ کریں ۔ غرض اس وحی الہی میں یہ جتلانا منظور ہے کہ یہ زمانہ جامع کمالات اخیار و کمالات اشرار ہے اور اگر خدا تعالیٰ رحم نہ کرے تو اس زمانہ کے شریر تمام گذشتہ عذابوں کے مستحق ہیں یعنی اس زمانہ میں تمام گذشتہ عذاب جمع ہو سکتے ہیں اور جیسا کہ پہلی امتوں میں کوئی قوم طاعون سے مری کوئی قوم صاعقہ سے اور کوئی قوم زلزلہ سے اور کوئی قوم پانی کے طوفان سے اور کوئی قوم آندھی کے طوفان سے اور کوئی قوم حسف سے۔ اسی طرح اس زمانہ کے لوگوں کو ایسے عذابوں سے ڈرنا چاہیے اگر وہ اپنی اصلاح نہ کریں کیونکہ اکثر لوگوں میں یہ تمام مواد موجود ہیں محض حلم الہی نے مہلت دے رکھی ہے۔ اور یہ فقرہ کہ جرى الله فی حُلَلِ الانبیاء بہت تفصیل کے لائق ہے جس کا یہ پنجم حصہ براہین متحمل نہیں ہو سکتا صرف اس قدر اجمالاً کافی ہے کہ ہر ایک گذشتہ نبی کی عادت اور خاصیت اور واقعات میں سے کچھ مجھ میں ہے اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے گذشتہ نبیوں کے ساتھ رنگا رنگ طریقوں میں نصرت (۹۰) اور تائید کے معاملات کئے ہیں اُن معاملات کی نظیر بھی میرے ساتھ ظاہر کی گئی ہے اور کی جائے گی اور یہ امر صرف اسرائیلی نبیوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کل دنیا میں جو نبی گذرے ہیں ان کی مثالیں اور ان کے واقعات میرے ساتھ اور میرے اندر موجود ہیں۔ اور ہندوؤں میں جو ایک نبی گذرا ہے جس کا نام کرشن تھا وہ بھی اس میں داخل ہے افسوس کہ جیسے داؤد نبی پر شریر لوگوں نے فسق و فجور کی تہمتیں لگائیں ایسی ہی تہمتیں کرشن پر بھی لگائی گئی ہیں اور جیسا کہ داؤد خدا تعالیٰ کا پہلوان اور بڑا بہادر تھا اور خدا اس سے پیار کرتا تھا ویسا ہی آریہ ورت میں کرشن تھا۔ پس یہ کہنا درست ہے کہ آریہ ورت کا داؤ د کرشن ہی تھا اور اسرائیلی نبیوں کا کرشن داؤ دہی تھا اور یہ بالکل صحیح ہے کہ ہم کہیں کہ داؤ د کرشن تھا یا کرشن داؤ د تھا۔ کیونکہ زمانہ اپنے اندر ایک گردشِ دوری رکھتا ہے۔ اور نیک ہوں یا بد ہوں بار بار دنیا میں ان کے امثال پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اور اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز مقدس نبی گذر چکے ہیں ایک ہی شخص کے