براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 105

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۰۵ براہین احمدیہ حصہ پنجم فَضَّلنا بعضهم على بعض ۔ اجتبيناهم واصطفيناهم كذالك ليكون ايةً للمؤمنين ۔ ام حسبتم ان اصحاب الكهف والرقيم كانوا من أياتنا عجبا ۔ قل هو الله عـجـيـب ۔ كل يوم هو في شان ففهمناها سليمان۔ وجحدوا بها واستيقنتها انفسهم ظلمًا وعلوا۔ قل جاء كم نور من الله فلا تكفروا ان كنتم مؤمنين۔ سلام على ابراهيم صافيناه ونجيناه من الغم۔ تفردنا بذالك ۔ فاتخذوا من مقام ابراهيم مُصلَّى ۔ (دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۶ سے صفحہ ۵۶۱ تک) ترجمہ۔ اے خدا میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے نجات بخش اور مشکلات سے رہائی فرما۔ ہم نے نجات دے دی۔ یہ دونوں فقرے عبرانی زبان میں ہیں اور یہ ایک پیشگوئی ہے جو دعا کی صورت میں کی گئی اور پھر دعا کا قبول ہونا ظاہر کیا گیا اور اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو موجودہ مشکلات ہیں یعنی تنہائی بیکسی ناداری کسی آئندہ زمانہ میں وہ دور کر دی جائیں گی۔ چنانچہ پچیس برس کے بعد یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور اس زمانہ میں ان مشکلات کا نام ونشان نہ رہا۔ اور پھر دوسری پیشگوئی انگریزی زبان میں ہے اور میں اس زبان سے واقف نہیں۔ یہ بھی ایک معجزہ ہے جو اس زبان میں وحی الہی نازل ہوئی ۔ ترجمہ یہ ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ میں تمہیں ایک بڑا گر وہ اسلام کا دوں گا۔ ایک گروہ تو اُن میں سے پہلے مسلمانوں میں سے ہوگا اور دوسرا گروہ اُن لوگوں میں سے ہوگا جو دوسری قوموں میں سے ہوں گے یعنی ہندوؤں میں سے یا یورپ کے عیسائیوں میں سے یا امریکہ کے عیسائیوں میں سے یا کسی اور قوم میں سے چنانچہ ہندو مذہب کے گروہ میں سے بہت سے لوگ مشرف باسلام ہو کر ترجمہ: یعنی کچی اور صافی اور کامل محبت جو ہم کو اس بندہ سے ہے دوسروں کو نہیں ہم اس امر میں متفرد ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ محبت بقدر معرفت ہوتی ہے۔ منہ