براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 80
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۸۰ براہین احمدیہ حصہ پنجم شخص تھا کہ امرتسر میں ایک پادری کے مطبع میں جس کا نام رجب علی تھا میری کتاب براہین احمدیہ چھپتی تھی اور میں اُس کے پروف دیکھنے کے لئے اور کتاب کے چھپوانے کے لئے اکیلا امرتسر جاتا اور اکیلا واپس آتا تھا اور کوئی مجھے آتے جاتے نہ پوچھتا کہ تو کون ہے اور نہ مجھ سے کسی کو تعارف تھا اور نہ میں کوئی حیثیت قابل تعظیم رکھتا تھا۔ میری اس حالت کے قادیاں کے آریہ بھی گواہ ہیں جن میں سے ایک شخص شرمپت نام اب تک قادیاں میں موجود ہے جو بعض دفعہ میرے ساتھ امرتسر میں پادری رجب علی کے پاس مطبع میں گیا تھا جس کے مطبع میں میری کتاب براہین احمدیہ چھپتی تھی۔ اور تمام یہ پیشگوئیاں اس کا کاتب لکھتا تھا۔ اور وہ پادری خود حیرانی سے پیشگوئیوں کو پڑھ کر باتیں کرتا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ایسے معمولی انسان کی طرف ایک دنیا کا رجوع ہو جائے گا۔ پر چونکہ وہ باتیں خدا کی طرف سے تھیں میری نہیں تھیں اس لئے وہ اپنے وقت میں پوری ہو گئیں اور پوری ہورہی ہیں۔ ایک وقت میں انسانی آنکھ نے اُن سے تعجب کیا۔ اور دوسرے وقت میں دیکھ بھی لیا۔ پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ارادہ کیا کہ دنیا میں اپنا ایک خلیفہ قائم کروں ۔ سو میں نے اس آدم کو پیدا کیا۔ اس وحی الہی میں میرا نام آدم رکھا گیا۔ کیونکہ انسانی نسل کے خراب ہو جانے کے زمانہ میں میں پیدا کیا گیا گویا ایسے زمانہ میں جب کہ زمین انسانوں سے خالی تھی۔ اور جیسا کہ آدم (۱۳) تو ام پیدا کیا گیا میں بھی تو ام ہی پیدا ہوا تھا۔ اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جو مجھ سے پہلے پیدا ہوئی اور میں بعد میں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اب میرے پر کامل انسانیت کے سلسلہ کا خاتمہ ہے اور نیز میرا نام آدم رکھنے میں اور بھی ایک اشارہ تھا جو اس دوسرے الہام میں یعنی اُس وحی الہی میں جو قرآنی عبارت میں مجھے کو ہوئی اُس کی تفصیل ہے اور وہ وحی یہ ہے: قال انّی جاعل في الارض خليفة ۔ قالوا أتجعل فيها من يفسد فيها۔ قَالَ اني اعلم ما لا تعلمون ۔ یعنی میری نسبت خدا نے میرے ہی ذریعہ سے براہین احمدیہ میں خبر دی کہ میں آدم کے رنگ پر ایک خلیفہ پیدا کرتا ہوں ۔ تب اس خبر کوسن کر بعض مخالفوں نے