براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 621
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۱۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم اَنْزَلْنَهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ يَاَهْلَ الْكِتَبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ (۵۱۸) عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرُ وَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔ " الـجـزو نـمـبـر ۶ سوره مائده۔ وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ میں داخل نہیں ہوتی ۔ بلکہ اس میں محفوظ ہوتی ہے ۔ اور تیسری ترقی جو قربت ۔ جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے انتہائی قدم ہے۔ اس میں مصروف ہیں ایک صفت رفق اور لطف اور احسان ہے اس کا نام جمال ہے۔ اور دوسری صفت قہر اور تختی ہے اس کا نام جلال ہے سو عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جو لوگ اُس کی درگاہ عالی میں بلائے جاتے ہیں ان کی تربیت کبھی جمالی صفت سے اور کبھی جلالی صفت سے ہوتی ہے اور جہاں حضرت احدیت کے تلطفات عظیمہ مبذول ہوتے ہیں وہاں ہمیشہ صفت جمالی کے تجلیات کا غلبہ رہتا ہے مگر کبھی کبھی بندگان خاص کی صفات جلالیہ سے بھی تادیب اور تربیت منظور ہوتی ہے۔ جیسے انبیاء کرام کے ساتھ بھی خدائے تعالیٰ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ ہمیشہ صفات جمالیہ حضرت احدیت کے ان کی تربیت میں مصروف رہے ہیں لیکن کبھی بھی ان کی استقامت اور اخلاق فاضلہ کے ظاہر کرنے کے لئے جلالی صفتیں بھی ظاہر ہوتی رہی ہیں اور ان کو شریر لوگوں کے ہاتھ سے 1۔ L انواع اقسام کے دکھ ملتے رہے ہیں تا ان کے وہ اخلاق فاضلہ جو بغیر تکالیف شاقہ کے پیش آنے کے ظاہر نہیں ہو سکتے وہ سب ظاہر ہو جائیں اور دنیا کے لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ کچے نہیں ہیں بلکہ بچے وفادار ہیں۔ وقالوا انى لك هذا ان هذا الا سحر يؤثر ۔ لن نؤمن لك حتى نرى الله ۔ ، جهرة۔ لا يصدق السفيه الاسيفة الهلاک۔ عدو لی و عدو لک | قل اتى امر الله فلا تستعجلوه۔ اذا جاء نصر الله الست بربكم قالوا بلى اور کہیں گے یہ تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔ یہ تو ایک سحر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم ا بنی اسرآئیل: ١٠٦ ٢ المائدة: ٢٠ ۵۱۹ ۵۱۹