براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 617
۶۱۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِيْنَ فَانْظُرْ إِلَى اثْرِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْي (۵۱۵ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ بقیه حاشیه نمبر ا ا سا منا معلوم ہوتا تھا مگر اب چاروں طرف سے انعام ہی انعام پاتا ہے اور اسی جہت سے اس کی حالت کے مناسب حال یہی تھا کہ اس کا نام منعم علیہ رکھا جاتا اور دوسرے لفظوں میں اس حالت کا نام بقا ہے کیونکہ سالک اس حالت میں اپنے تئیں (۵۸۲) ایسا پاتا ہے کہ گویا وہ مرا ہوا تھا اور اب زندہ ہو گیا ۔ اور اپنے نفس میں بڑی تقدم من ذنبك وما تأخر ۔ ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح عطا فرمائی ہے یعنی عطا فرمائیں گے۔ اور درمیان میں جو بعض مکروہات و شدائد ہیں وہ اس لئے ہیں تا خدائے تعالیٰ تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرمادے یعنی اگر خدائے تعالیٰ چاہتا تو قادر تھا کہ جو کام مد نظر ہے وہ بغیر پیش آنے کسی نوع کی تکلیف کے اپنے انجام کو پہنچ جاتا اور بآسانی فتح عظیم حاصل ہو جاتی ۔ لیکن تکالیف اس جہت سے ہیں کہ تا وہ تکالیف موجب ترقی مراتب و مغفرت خطا یا ہوں ۔ آج اس موقع کے اثناء میں جبکہ یہ عاجز بغرض تحیح کا پی کو دیکھ رہاتھا بعالم کشف چند ورق ہاتھ میں دیئے گئے اور اُن پر لکھا ہوا تھا کہ فتح کا نقارہ بجے ۔ پھر ایک نے مسکرا کر ان ورقوں کی دوسری طرف ایک تصویر دکھلائی اور کہا کہ دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری۔ جب اس عاجز نے دیکھا تو وہ اسی عاجز کی تصویر تھی اور سبز پوشاک تھی مگر نہایت رعبناک جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب ہوتے ہیں اور تصویر کے یمین و بسیار میں حجت الله القادر و سلطان ۵۱۲ احمد مختار لکھا تھا۔ اور یہ سوموار کا روز انیسویں ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ مطابق ۱/۲۲ اکتوبر ۸۳ء اور ششم کا تک ۱۹۴۰ بکرم ہے۔ الیس الله بکاف عبده فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها۔ اليس الله بکاف عبده فلما تجلى ربــه لـلـجـبـل جعله دكا۔ والله