براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 584
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۸۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم عیسائی یا یہودی عالم بائیل نے یہ قصے بتلا دیئے ہوں گے۔ پس ظاہر ہے اگر آنحضرت کا امی ہونا ان کے دلوں میں یہ یقین کامل متمکن نہ ہوتا تو اسی بات کے ثابت کرنے کے لئے نہایت کوشش کرتے کہ آنحضرت اُمی نہیں ہیں فلاں مکتب یا مدرسہ میں انہوں نے تعلیم پائی ہے۔ واہیات باتیں کرنا جن سے اُن کی حماقت ثابت ہوتی تھی کیا ضرور تھا۔ کیونکہ یہ الزام لگانا کہ بعض عالم یہودی اور عیسائی در پردہ آنحضرت کے رفیق اور معاون ہیں بد یہی البطلان تھا۔ اس وجہ سے کہ قرآن تو جابجا اہلِ کتاب کی وحی کو ناقص اور اُن کی کتابوں کو محرف اور مبدل اور ان کے عقائد کو فاسد اور باطل اور خود ان کو بشر طیکہ بے ایمان مریں ملعون اور جہنمی بتلاتا ہے۔ اور اُن کے اصولِ مصنوعہ کو دلائل قوتیہ سے توڑتا ہے تو پھر کس طرح جمیع عبادات ہے۔ دوسرا مقصد قرآن شریف کا یہ ہے کہ وہ خدا کا صانع کامل ہونا اور خالق العالمین ہونا ظاہر کرتا ہے اور عالم کے ابتدا کا حال بیان فرماتا ہے اور جو دائرہ عالم میں داخل ہو چکا اس کو مخلوق ٹھہراتا ہے اور ان امور کے جو لوگ مخالف ہیں انکا کذب ثابت کرتا ہے۔ سو یہ مقصد رَبُّ الْعَلَمِين میں بطور اجمال آ گیا ۔ تیسرا مقصد قرآن شریف کا خدا کا فیضان بلا استحقاق ثابت کرنا اور اُس کی رحمتِ عامہ کا بیان کرنا ہے۔ سو یہ مقصد لفظ رحمان میں بطورا جمال آ گیا۔ چوتھا مقصد قرآن شریف کا جائے ۔ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَذْكُورًا ۔ کیا انسان پر یعنی تجھے پر وہ وقت نہیں گزرا کہ تیرا دنیا میں کچھ بھی ذکر و تذکرہ نہ تھا۔ یعنی تجھ کو کوئی نہیں جانتا تھا کہ تو کون ہے اور کیا چیز ہے اور کسی شمار و حساب میں نہ تھا۔ یعنی کچھ بھی نہ تھا۔ یہ گزشتہ تلطفات و احسانات کا حوالہ ہے تا محسن حقیقی کے آئندہ فضلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے ۔ سبحان الله تبارک و تعالی زاد مجدک ينقطع ابانک و یبدء منک سب پاکیاں خدا کے لئے ہیں جو نہایت برکت والا اور عالی ذات ہے اس نے تیرے مسجد کو زیادہ کیا۔ تیرے آباء کا نام اور ذکر منقطع ہو جائے گا۔ یعنی بطور مستقل ان کا