براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 569 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 569

روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم يُحْيِ وَيُمِيْتُ فَامِنُوا خدا کی طرف سے تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔ وہ خدا ۴۷۲) بِاللهِ وَرَسُولِهِ النَّبي جو بلا شرکت الغيری آسمان اور زمین کا مالک ہے جس الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللہ کے سوا اور کوئی خدا اور قابل پرستش نہیں زندہ کرتا ہے اور وَ كَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ مارتا ہے پس اس خدا پر اور اس کے رسول پر جو نبی اُمی لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ با سورہ ہے ایمان لاؤ۔ وہ نبی جو اللہ اور اس کے کلموں پر ایمان اعراف الجزو نمبر ۹ لاتا ہے اور تم اس کی پیروی کرو تاتم ہدایت پاؤ۔ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا ۔ یعنی جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ان کو بالضرور اپنی ا را ہیں دکھلا دیا کرتے ہیں ۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ یہ دس صداقتیں جو سورہ فاتحہ میں درج ہیں کس قدر عالی ۴۷۶ اور بے نظیر صداقتیں ہیں جن کے دریافت کرنے سے ہمارے تمام مخالفین قاصر رہے اور پھر دیکھنا چاہئے کہ کس ایجاز اور لطافت سے اقل قلیل عبارت میں ان کو خدائے تعالیٰ نے بھر دیا ہے اور پھر اس طرف خیال کرنا چاہئے کہ علاوہ ان سچائیوں کے اور اس کمال ایجاز کے دوسرے کیا کیا لطائف ہیں جو اس سورہ مبارکہ میں بھرے ہوئے ہیں اگر ہم اس جگہ ان سب لطائف کو بیان کریں تو یہ مضمون ایک از انجملہ ایک یہ ہے کہ ایک دفعہ اپریل ۱۸۸۳ء میں صبح کے وقت بیداری ہی میں جہلم سے روپیہ روانہ ہونے کی اطلاع دی گئی اور اس بات سے اس جگہ آریوں کو جن میں سے بعض خود جا کر ڈاک خانہ میں خبر لیتے تھے بخوبی اطلاع تھی کہ اس رو پیر کے روانہ ہونے کے بارہ میں جہلم بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ سے کوئی خط نہیں آیا تھا کیونکہ یا نظام اس عاجز نے پہلے سے کر رکھا تھا کہ جو کچھ ڈاک خانہ سے خط وغیرہ آتا تھا اس کو خود بعض آریا ڈاک خانہ سے لے آتے تھے اور ہر روز ہر یک بات سے (۴۷۶) بخوبی مطلع رہتے تھے ۔ اور خود اب تک ڈاک خانہ کا ڈاک منشی بھی ایک ہندو ہی ہے۔ غرض جب یہ الہام ہوا تو ان دنوں میں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا بطور روزنامہ نویس کے نوکر رکھا ہوا تھا اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اُس پر دستخط کرائے جاتے تھے ۔ چنانچہ یہ پیشگوئی بھی بدستور اس سے لکھائی گئی اور اس وقت کئی آریوں الاعراف: ۱۵۷ تا ۱۵۹ العنكبوت:۷٠