براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 545
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۴۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم مخالف کے رو برو کارگر نہیں اور بلا ریب اس حوض عجیب الصفات کے وجود پر خیال (۴۵۴) کرنے سے مسیح کی حالت پر بہت سے اعتراضات عائد ہوتے ہیں جو کسی طرح یر ہوکر مرتبہ وصال الہی کا جس میں اس کی سعادت تامہ ہے پالیوے یہی ایک دعا ہے۔ ۴۵۴۶ جس ۔ در حاشیه نمبر جس کی انسان کو سخت حاجت ہے اور جس پر اس کی ساری سعادت موقوف ہے سو اس کے حصول کا سیدھا راستہ یہی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہے کیونکہ انسان کے لئے ہر یک مطلب کے پانے کا یہی ایک طریق ہے کہ جن راہوں پر چلنے سے وہ مطلب حاصل ہوتا ہے ان راہوں پر مضبوطی سے قدم مارے اور وہی راستہ اختیار کرے دلوں پر ایسا محیط ہو جاتا ہے کہ ہزار ہا طور کی نیستی ان پر وارد ہو جاتی ہے اور شرک خفی کے ہریک رگ وریشہ سے بکلی پاک اور منزہ ہو جاتے ہیں اور منجملہ ان عطیات کے ایک یہ ہے کہ اُن کی معرفت اور خداشناسی بذریعہ کشوف صادقہ و علوم لدنیہ و الہامات صریحہ و مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت و دیگر خوارق عادت بدرجہ اکمل و اتم پہنچائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان میں اور عالم ثانی میں ایک نہایت رقیق اور شفاف حجاب باقی رہ جاتا ہے۔ جس میں سے ان کی نظر عبور کر کے واقعات اخروی کو اسی عالم میں دیکھ لیتی ہے بر خلاف دوسرے لوگوں کے کہ جو باعث پر ظلمت ہونے اپنی کتابوں کے اس مرتبہ کاملہ تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے بلکہ ان کی سبھ تعلیم کتا ہیں ان کے حجابوں پر اور بھی صد با حجاب ڈالتے ہیں اور بیماری کو آگے سے آگے بڑھا کر موت تک (۳۵۴) پہنچاتے ہیں۔ اور فلسفی جن کے قدموں پر آج کل ہر ہمو سماج والے چلتے ہیں اور جن کے مذہب کا سارا مدار عقلی خیالات پر ہے وہ خود اپنے طریق میں ناقص ہیں اور ان کے نقصان پر یہی دلیل کافی ہے کہ ان کی معرفت باوجو دصد با طرح کی غلطیوں کی نظری وجوہ سے تجاوز نہیں کرتی اور قیاسی اٹکلوں سے آگے نہیں بڑھتی اور ظاہر ہے کہ جس شخص کی معرفت صرف نظری طور تک محدود ہے اور وہ بھی کئی طرح کی خطا کی آلودگیوں سے ملوث وہ شخص بمقابلہ اس شخص کے جس کا عرفان بداہت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے اپنی علمی حالت میں بغایت درجہ پست اور منزل ہے۔ ظاہر ہے کہ نظر اور