براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 533 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 533

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۳۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم بوم اندھوں لنگڑوں وغیرہ کو شفا حاصل ہوئی ہے تو بالیقین یہ نسخہ حضرت مسیح نے اسی (۲۴۴) حوض سے اڑایا ہوگا اور پھر نا دانوں اور سادہ لوحوں میں کہ جو بات کی تہ تک 1 بقیه حاشیه اور ربانی تجلیات پہنچا سکتے ہیں اس منزل تک ان کی اپنی ہی عقل پہنچا دے گی ۔ اب ۴۴۴ ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہوگا کہ اپنی عقل کی طاقت کو ربانی طاقت کے مساوی بلکہ اس سے عمدہ تر خیال کر رہے ہیں ۔ سود یکھئے وہی بات بچ نکلی یا نہیں کہ وہ بجائے خدا کے عقل سے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پکار رہے ہیں عیسائیوں کا حال بیان کرنا کچھ ضرورت ہی نہیں سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرات عیسائی بجائے اس کے اطمینان اور حلاوت پیدا ہوتی جاتی ہے اور بقدر استعداد اور مناسبت ذوق ایمانی جوش مارتا ہے اور اُنس اور شوق ظاہر ہوتا ہے اور التذاذ بذکر اللہ بڑھتا ہے اور ان کی صحبت طویلہ سے بعضرورت یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی ایمانی قوتوں میں اور اخلاقی حالتوں میں اور انقطاع عن الدنیا میں توجہ لی اللہ میں اور محبت الہیہ میں اور شفقت علی العباد میں اور وفا اور رضا اور استقامت میں اس عالی مرتبہ پر ہیں جس کی نظیر دنیا میں نہیں دیکھی گئی اور عقل سلیم فی الفور معلوم کر لیتی ہے کہ وہ بند اور زنجیر اُن کے (۴۴۴ پاؤں سے اتارے گئے ہیں جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں اور وہ تنگی اور انقباض ان کے سینہ سے دور کیا گیا ہے جس کے باعث سے دوسرے لوگوں کے سینے منقبض اور کوفتہ خاطر ہیں۔ ایسا ہی وہ لوگ تحدیث اور مکالمات حضرت احدیت سے بکثرت مشرف ہوتے ہیں اور متواتر اور دائی خطابات کے قابل ٹھہر جاتے ہیں اور حق جل و علا اور اس کے مستعد بندوں میں ارشاد اور ہدایت کے لئے واسطہ گردانے جاتے ہیں۔ ان کی نورانیت دوسرے دلوں کو منور کر دیتی ہے اور جیسے موسم بہار کے آنے سے نباتی قوتیں جوش زن ہو جاتی ہیں ایسا ہی ان کے ظہور سے فطرتی نور طبائع سلیمہ میں جوش مارتے ہیں اور خود بخود ہر یک سعید کا دل یہی چاہتا ہے کہ اپنی سعادت مندی کی استعدادوں کو بکوشش تمام منصئہ ظہور میں لاوے اور خواب غفلت کے پردوں سے خلاصی پاوے اور معصیت اور فسق و فجور