براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 529
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۲۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم عیسی کے ملک میں قدیم سے چلا آتا تھا اور جس میں قدیم سے یہ خاصیت تھی کہ (۴۴۱) اس میں ایک ہی غوطہ لگانا ہر یک قسم کی بیماری کو گو وہ کیسی ہی سخت کیوں نہ ہو یہ صداقت بھی ہمارے مخالفین کی نظر سے چھپی ہوئی ہے چنانچہ ظاہر ہے کہ بت پرست لوگ بجز ذات واحد خدائے تعالی کے اور اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں اور ۴۴۱ "۔ L آریہ سماج والے اپنی روحانی طاقتوں کو غیر مخلوق سمجھ کر ان کے زور سے مکتی حاصل صرف تین چار پہر کے عرصہ میں ابتدا سے انتہا تک بفراغ خاطر اس کو پڑھ سکتا ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ یہ بلاغت قرآنی کس قدر بھارا معجزہ ہے کہ علم کے ایک بحر ذخار کو تین چارجز میں لپیٹ کر دکھلا دیا ہے اور حکمت کے ایک جہان کو صرف چند صفحات میں بھر دیا ہے کیا کبھی کسی نے دیکھا یا سنا کہ اس قدر قليل الحجم کتاب تمام زمانہ کی صداقتوں پر مشتمل ہو کیا عقل کسی عاقل کی انسان کے لئے یہ مرتبہ عالیہ تجویز کر سکتی ہے کہ وہ تھوڑے سے لفظوں میں ایک دریا حکمت کا بھر دے جس سے علم دین کی کوئی صداقت باہر نہ ہو یہ واقعی اور کچی باتیں ہیں جن کو ہم لکھتے ہیں جسے انکار ہو وہ بمقابلہ ہمارے امتحان کرلے۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وید کا کلام ایک اور ضروری نشانی سے جو کلام الہی کے لئے لا بدی ولازمی ہے خالی ہے اور وہ یہ ہے کہ وید میں پیشگوئیوں کا نام ونشان نہیں اور وید ہرگز اخبار غیبیہ پر مشتمل نہیں ہے حالانکہ جو کتاب خدا کا کلام کہلاتی ہے اس کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ خدا کے انوار اس میں ظاہر ہوں یعنی جیسے خدائے تعالی عالم الغیب اور قادر مطلق (۴۴۱) بے مثل و بے ہمتا ہے ویسا ہی لازم ہے کہ اس کا کلام جو اس کی صفات کا ملہ کا آئینہ ہے صفات مذکورہ کو اپنی صورت حالی میں ثابت کرتا ہو ظاہر ہے کہ خدا کے کلام سے یہی علت غائی ہے کہ تا اس کے ذریعہ سے کامل طور پر خدا کی ذات اور صفات کا علم حاصل ہو اور تا انسان وجوہات قیاسی سے ترقی کر کے عین الیقین بلکہ حق الیقین کے درجہ تک پہنچ جائے اور ظاہر ہے کہ یہ مرتبہ علمی تب ہی حاصل ہو سکتا ہے کہ جب خدا کا کلام طالب حقیقت کو صرف عقل کے حوالہ نہ کرے بلکہ اپنی ذاتی تجلیات سے