براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 517 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 517

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۱۵ براہین احمدیہ حصہ فيه حاشیه نمبر دوسرے یہ کہ جن لوگوں نے منقولی معجزات کو جو تصرف عقل سے بالا تر ۴۳۱) ہیں مشاہدہ کیا ہے ان کے لئے بھی وہ تسلی نام کا موجب نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ کے موجب ہو جائیں گے اور کوئی ایسا ظاہری و باطنی امرنہیں ہو گا کہ جو خاص (۴۳۱) خدائے تعالیٰ کے ارادہ سے نیک بندوں پر بصورت نعمت اور بد بندوں پر ثابت کرنے والا ہے ۔ تفصیل اس استدلال لطیف کی یہ ہے کہ یہ بات یہ ہداہت ثابت ہے کہ عالم کے اشیاء میں سے ہر یک موجود جو نظر آتا ہے اس کا وجود اور قیام نظراً علی ذاتہ ضروری نہیں مثلاً زمین کروی الشکل ہے اور قطر اس کا بعض کے گمان کے موافق تخمیناً چار ہزار کوس پختہ ہے مگر اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی کہ کیوں یہی شکل اور یہی مقدار اس کے لئے ضروری ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اس سے زیادہ یا اس سے کم ہو یا بر خلاف شکل حاصل کے کسی اور شکل سے متشکل ہو اور جب اس پر کوئی دلیل قائم نہ ہوئی تو یہ شکل اور یہ مقدار جس کے مجموعہ کا نام وجود ہے زمین کے لئے ضروری نہ ہوا اور علی ہذا القیاس عالم کی تمام اشیاء کا وجود اور قیام غیر ضروری ٹھہرا۔ اور صرف یہی بات نہیں کہ وجود ہر یک ممکن کا نظر اعلی ذاتہ غیر ضروری ہے بلکہ بعض صورتیں ایسی نظر آتی ہیں کہ اکثر چیزوں کے معدوم ہونے کے اسباب بقيه بھی قائم ہو جاتے ہیں پھر وہ چیزیں معدوم نہیں ہوتیں مثلا با وجود اس کے کہ سخت سخت قحط اور و با پڑتی ہیں مگر پھر بھی ابتدا ء زمانہ سے تم ہر یک چیز کا بچتا چلا آیا ہے حالانکہ عند العقل جائز بلکہ ۴۳۱ کے واجب تھا کہ ہزار ہا شدائد اور حوادث میں سے جو ابتدا سے دنیا پر نازل ہوتی رہی کبھی کسی دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ شدت قحط کے وقت غلہ جو کہ خوراک انسان کی ہے بالکل مفقود ہو جاتا یا کوئی قسم غلہ کی مفقود ہو جاتی یا کبھی شدت وبا کے وقت نوع انسان کا نام ونشان باقی نہ رہتا یا کوئی اور انواع حیوانات میں سے مفقود ہو جاتے یا کبھی اتفاقی طور پر سورج یا چاند کی گل بگڑ جاتی یا دوسری بے شمار چیزوں سے جو عالم کی درستی نظام کے لئے ضروری ہیں کسی چیز کے وجود میں