براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 430
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۲۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم جنگلی آدمیوں کو جو بے زبانی کی حالت میں محض اشارات سے گزارہ کرتے ہیں کیوں بذریعہ الہام کے کسی بولی سے مطلع نہیں کیا جاتا اور کیوں کوئی بچہ نوزاد جنگل میں لاؤ تو ظاہر ہوگا کہ کامل طور پر کوئی بھی طاقت ہم کو حاصل نہیں ۔ مثلاً ہماری بدنی طاقتیں ہماری تندرستی پر موقوف ہیں اور ہماری تندرستی بہت سے ایسے اسباب پر موقوف ہے کہ کچھ ان میں سے سماوی اور کچھ ارضی ہیں اور وہ سب کی سب ہماری طاقت سے بالکل باہر ہیں اور یہ تو ہم نے ایک موٹی سی بات عام لوگوں کی سمجھ کے موافق کہی ہے لیکن جس قدر در حقیقت وہ قیوم عالم اپنی علت العلل ہونے کی وجہ سے ہمارے ظاہر اور ہمارے باطن اور ہمارے اول اور ہمارے آخر اور ہمارے فوق اور ہمارے تحت اور ہمارے کیمین اور ہمارے پیار اور ہمارے دل اور ہماری جان اور ہمارے روح کی تمام طاقتوں پر احاطہ کر رہا ہے وہ ایک ایسا مسئلہ دقیق ہے جس کے کنہ تک عقول بشر یہ پہنچ ہی نہیں سکتیں۔ اور اس کے سمجھانے کی اس جگہ ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ جس قدر ہم نے اوپر لکھا ہے وہی مخالف کے الزام اور انجام کے لئے کافی ہے۔ غرض قیوم عالم کے فیوض حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ اپنی ساری قوت اور زور اور طاقت سے اپنا بقيه حاشیه در حاشیه نمبر بچاؤ طلب کیا جائے اور یہ طریق کچھ نیا طریق نہیں ہے بلکہ یہ وہی طریق ہے جو قدیم سے بنی آدم کی فطرت کے ساتھ لگا چلا آتا ہے۔ جو شخص عبودیت کے طریقہ پر چلنا چاہتا ہے وہ اسی طریق کو اختیار کرتا ہے اور جو شخص خدا کے فیوض کا طالب ہے وہ اسی راستے پر قدم مارتا ہے۔ اور جو شخص مور درحمت ہونا چاہتا ہے وہ انہیں قوانین قدیمہ کی تعمیل کرتا ہے۔ یہ قوانین کچھ نئے نہیں ہیں ۔ یہ عیسائیوں کے خدا کی طرح کچھ مستحدث بات نہیں۔ بلکہ خدا کا یہ ایک قانون محکم ہے کہ جو قدیم سے بندھا ہوا چلا آتا ہے۔ اور سنت اللہ ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری ہے جس کی بہت کم ہو گیا تھا اور بے رحمی اور بے مروتی اور سنگدلی اور قساوت قلبی اور کینہ کشی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی اور خدا کو منظور تھا کہ جیسا وہ لوگ مبالغہ سے کینہ کشی کی طرف مائل تھے ۔ ایسا ہی بمبالغہ تمام رحم اور درگزر کی طرف مائل کیا جاوے لیکن یہ رحم اور در گذر کی تعلیم ایسی ۳۵۹ ۳۵۹ ۳۵۹