براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 307
روحانی خزائن جلد 1 ۳۰۵ براہین احمدیہ حصہ سوم 1 ، نمبراا قرآن شریف کے کسی مقام میں سے کوئی مضمون لیکر کسی عربی دان کو کہ جو آج کل اس (۲۷۴) انکار نہیں کر سکتے کہ اس کلام مقدس میں فکر اور نظر کی مشق کیلئے بڑی بڑی تاکید میں ہیں یہاں تک کہ (۲۷۴) مومنوں کی علامت ہی یہی ٹھہرا دی ہے کہ وہ ہمیشہ زمین اور آسمان کے عجائبات میں فکر کرتے رہتے ہیں اور قانون حکمت الہیہ کو سوچتے رہتے ہیں جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا یعنے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن از مشرق معانی صدہا دقائق آورد قد ہلال نازک زان ناز کی خمیده کیفیت علومش دانی شان دارد شهد لیست آسمانی از وحی حق چکیده آن نیز صداقت چوں رو بعالم آورد ہر بوم شب پرستی در کنج خود خزیده روئے یقین نہ بند ہرگز کسی بدنیا الا کیسے کہ باشد بارولیش آرمیده آنکس که عالمش شد شد مخزن معارف و آن بے خبر از عالم کین عالمے ندیده باران فضل رحمان آمد مقدم او بد قسمت آنکہ ازوے سوئے دگر دویده میل بدی نباشد الا رگے ز شیطان آن را بشر بدانم کز هر شرے رہیدہ اے کان دلربائی دانم که از کجائی تو نور آن خدائی کین خلق آفریده میلم نماند باکس محبوب من توئی بس زیرا که زان فغان رس نورت بما رسیده بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ به دیگر نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکال پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا نا گہاں غیب سے یہ چشمۂ اصفی نکلا یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد تیر بیضا نکلا ال عمران: ۱۹۱ ۱۹۲ ۲۷۵