براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 303

روحانی خزائن جلد 1 ۳۰۱ براہین احمدیہ حصہ سوم اس بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ یہ معجزہ بھی نہایت آسانی سے اس پر ۲۱ خدا کی کلام کا کامل طور پر انہیں کو قدر ہوتا ہے کہ جو اہل عقل ہیں۔ جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ☆ ہے۔ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُوْنَ الجز نمبر لله عنے یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں پر ان کو معقول طور پر وہی سمجھتے ہیں کہ جو صاحب علم اور دانشمند ہیں۔ کہنے کے مجاز ہی نہیں۔ تو پھر آپ کا ایمان بھی عجب ایمان ہے کہ اپنے استاد اور رسول کے برخلاف قدم چلا رہے ہیں اور جس کتاب کو حضرت مسیح ناقص کہہ چکے ہیں اس کو کامل کہے جاتے ہیں۔ کیا آپ کی سمجھ مسیح کی سمجھ سے کچھ زیادہ ہے یا مسیح کا کہنا قابل اعتبار نہیں ۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ اگر چہ انجیل مسیح کے زمانہ میں ناقص تھی۔ مگر مسیح نے یہ بھی بطور پیشگوئی کے کہ دیا تھا کہ جو باتیں میرے بیان کرنے سے رہ گئی ہیں۔ ان کو تسلی دہندہ آ کر بیان کر دے گا تو بہت خوب ۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ تسلی دہندہ جس کے آنے کی مسیح نے انجیل میں بشارت دی ہے اور جس کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دینی صداقتوں کو مرتبۂ کمال تک پہنچائے گا اور آئندہ کے حالات یعنے قیامت کی خبریں انجیل کی نسبت بہت مفصل بیان کرے گا۔ آپ کے خیال میں بجز حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن شریف نازل ہوا کہ جو سب کتب سابقہ کی نسبت کامل ہونے کا دعوی کرتا ہے اور اس کا ثبوت دیتا ہے۔ کوئی اور شخص ہے جس نے حضرت مسیح کے بعد ظہور کر کے دینی صداقتوں کو کمال کے مرتبہ تک پہنچایا اور آئندہ کی خبریں مسیح کی اے کے نسبت زیادہ بتلائیں تو اس کا نام بتلانا چاہیے اور ایسی کتاب کو پیش کرنا چاہیے کہ جو مسیح کے بعد عیسائیوں کو خدا کی طرف سے ملی جس نے وہ اپنی صداقتیں پیش کیں کہ جو مسیح کی فرمودہ ہیں موجود نہ تھیں اور آخری حالات اور آئندہ کی خبریں بتلائیں جن کے بتلانے سے مسیح قاصر رہا تا اُسی کتاب کو قرآن شریف کے مقابلہ پر وزن کیا جائے ۔ مگر یہ تو زیبا نہیں کہ آپ لوگ مسیح کے پیرو کہلا کر پھر اس چیز کو کامل قرار دیں جس کو آپ سے اٹھارہ سو بیاسی برس پہلے مسیح ناقص قرار دے چکا ہے اور اگر آپ کا مسیح کے قول پر ایمان ہی نہیں۔ اور بذات خود چاہتے ہیں کہ انجیل کا قرآن شریف سے مقابلہ کریں تو بسم اللہ آئے اور انجیل میں سے وہ کمالات نکال کر دکھلائیے کہ جو ہم نے اسی کتاب میں قرآن شریف کی نسبت ثابت کئے ہیں تا منصف لوگ آپ ہی دیکھ لیں کہ معرفت الہی کا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۲۰ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) ل العنكبوت: ۴۴