براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 301
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۹۹ براہین احمدیہ حصہ سوم جس کی سچائی ابتداء سے ہر یک طالب حق پر آج تک ثابت ہوتی چلی آئی ہے اور ﴿۲۹﴾ کے بنانے کی حاجت پڑتی ہے اور نہ کچھ تکلف کرنا پڑتا ہے بلکہ جو ٹھیک ٹھیک عقلمندی کا ﴿۲۷۰) راہ ہے وہی اس کو نظر آ جاتا ہے۔ اور جو حقیقی سچائی ہے اسی پر اس کی نگاہ جا ٹھہرتی ہے غرض عقل کا کام یہ ہے کہ الہام کے واقعات کو قیاسی طور پر جلوہ دیتی ہے ۔ اور الہام کا کام یہ کہ وہ عقل کو طرح طرح کی سرگردانی سے بچاتا ہے ۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ سر پہ خالق ہے اس کو یاد کرو یوں ہی مخلوق کو نہ کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ کچھ تو خوف خدا کرو لوگو کچھ تو لوگو خدا دنیا سدا نہیں پیارو اس جہاں کو بقا بہکاؤ شرماؤ نہیں پیارو رہنے کی جا نہیں پیارو کوئی اس میں رہا نہیں پیارو بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ خرابہ میں کیوں لگاؤ دل ہاتھ سے اپنے کیوں جلاؤ دل کیوں نہیں تم کو دین حق کا خیال ہائے سو سو اٹھے ہے دل میں ابال کس بلا کا پڑا دل پہ حجاب گیا یک بار کیوں نہیں دیکھتے طریق صواب اس قدر کیوں ہے کین و استکبار کیوں خدا یاد سے تم نے حق کو بھلا دیا ہیہات دل کو پتھر بنا دیا ہیہات عزیز و سنو کہ بے قرآں حق کو ملتا نہیں کبھی انساں جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں ان یہ فرقاں میں اک عجیب اثر جس کا اس یار کی نظر ہی نہیں بناتا ہے عاشق دلبر ہے نام قادر اکبر اس کی ہستی سے دی ہے پختہ خبر کوئے دلبر میں کھینچ لاتا پھر تو کیا کیا نشان دکھاتا سینہ ہے کو خوب صاف کرتا ہے دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے اس کے اوصاف کیا کروں میں بیاں وہ تو دیتا ہے جاں کو اور اک جاں وہ تو چکا ہے نیر اکبر اس انکار ہو سکے کیونکر وہ ہمیں داستاں تلک لایا اس کے پانے سے یار کو پایا