براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 206
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۰۴ براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۸۸) یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو ! نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اس پر قرباں ہے ختم نہیں تو اس صورت میں سلسلہ سوالات مخلوق کبھی ختم نہ ہوگا اور ہر یک مرتبہ پیدائش پر الی غیر النہایت اس کو اپنے حق کے مطالبہ کا استحقاق حاصل ہوگا اور یہی تسلسل ہے۔ ہاں اگر یہ جستجو ہے کہ اس تفاوت مراتب رکھنے میں حکمت کیا ہے۔ تو سمجھنا چاہیئے کہ اس بارہ میں قرآن شریف نے تین حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو عند العقل نہایت بدیہی اور روشن ہیں جن سے کوئی عاقل انکار نہیں کر سکتا اور وہ بہ تفصیل ذیل ہیں :۔ اول۔ یہ کہ تا مہمات دنیا یعنے امور معاشرت با حسن وجہ صورت پذیر ہوں جیسا فرمایا ہے۔ وَقَالُوا لَوْلَا نُزِلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُمُ بعضائهرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ - الجز و نمبر ۲۵۔ بھنے کفار کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کے بڑے بڑے مالداروں اور رئیسوں میں سے کسی بھاری رئیس اور دولتمند پر کیوں نازل نہ ہوا ۔ تا اس کی رئیسانہ شان کے شایان ہوتا اور نیز اس کے رعب اور سیاست اور مال خرچ کرنے سے جلد تر دین پھیل جاتا ۔ ایک غریب آدمی جس کے پاس دنیا کی جائداد میں سے کچھ بھی نہیں کیوں اس عہدہ سے ممتاز کیا گیا ( پھر آگے بطور جواب فرمایا أَهُمُ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ کیا قیام ازل کی رحمتوں کو تقسیم کرنا ان کا اختیار ہے ۔ یعنی یہ خداوند حکیم مطلق کا فعل ہے کہ بعضوں کی استعدادیں اور ہمتیں پست رکھیں اور وہ زخارف دنیا میں پھنسے رہے اور رئیس اور امیر اور دولتمند کہلانے پر پھولتے رہے اور اصل مقصود کو بھول گئے اور بعض کو فضائل روحانیت اور کمالات قدسیہ عنایت فرمائے اور وہ اس محبوب حقیقی کی محبت میں محو ہو کر مقترب بن گئے اور مقبولانِ حضرت احدیت ہو گئے ۔ ( پھر بعد اس کے اس حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو اس اختلاف استعدادات اور تباین خیالات میں مخفی ہیں) الزخرف: ٣٣٤٣٢