براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 73

روحانی خزائن جلد ۱ اے براہین احمدیہ حصہ دوم مقدمه اور اس میں کئی مقصد واجب الاظہار ہیں جو ذیل میں تحریر کئے جاتے ہیں اول ہر ایک صاحب کی خدمت میں جو اعتقاد اور مذہب میں ہم سے مخالف ہیں بصد ادب اور غربت عرض کی جاتی ہے جو اس کتاب کی تصنیف سے ہمارا ہرگز یہ مطلب اور مدعا نہیں جو کسی دل کو رنجیدہ کیا جائے یا کسی نوع کا بے اصل جھگڑا اٹھایا جائے بلکہ محض حق اور راستی کا ظاہر کرنا مراد لی اور تمنا قلبی ہے اور ہم کو ہرگز منظور نہ تھا کہ اس کتاب میں کسی اپنے مخالف کے خیالات اور عندیات کا ذکر زبان پر لاتے بلکہ اپنے کام سے کام تھا اور مطلب سے مطلب مگر کیا کیجئے کہ کامل تحقیقات اور باستیفاء بیان کرنا جميع اصول حقہ اور ادلہ کاملہ کا اسی پر موقوف ہے کہ ان سب ارباب مذاہب کا جو بر خلاف اصول حقہ کے رائے اور خیال رکھتے ہیں غلطی پر ہونا دکھلایا جائے پس اس جہت سے ان کا ذکر کرنا اور انکے شکوک کو رفع دفع کرنا ضروری اور واجب ہوا اور خود ظاہر ہے کہ کوئی ثبوت بغیر رفع کرنے عذرات فریق ثانی کے کما حقہ اپنی صداقت کو نہیں پہنچتا مثلاً جب ہم اثبات وجودِ صانع عالم کی بحث لکھیں تو تکمیل اس بحث کی اس بات پر موقوف ہوگی جود ہر یہ یعنے منکرین وجود خالق کا ئنات کے ظنون فاسدہ کو دور کیا جائے اور جب ہم حضرت باری کے خالق الارواح والاجسام ہونے پر دلائل قائم کریں تو ہم پر انصا فالا زم ہے جو آریہ سماج * والوں کے اوہام اور وسواس کو بھی جو خدا تعالیٰ کے ۸۴ یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ہندوؤں میں پیدا ہوا ہے جو اپنی مذہبی مجلس کو آریہ سماج سے موسوم کرتے ہیں۔ ان دنوں میں سر پرست بلکہ بانی مبانی اس فرقہ کے ایک پنڈت صاحب ہیں کہ جن کا ۸۴ کی